پشاور: جنازہ گاہ میں دھماکہ، ایک پولیس اہل کار زخمی

Image caption اس جنازہ گاہ میں اتوار کے روز ہلاک ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی نائب صدر میاں مشتاق کی نمازِ جنازہ دوپہر دو بجے ہونا تھی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے بڈہ بیر میں ماشو خیل کے مقام پر ایک جنازہ گاہ میں دھماکہ ہوا ہے جس میں ایک پولیس اہل کار زخمی ہو گیا ہے۔

اس جنازہ گاہ میں اتوار کے روز ہلاک ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی نائب صدر میاں مشتاق کی نمازِ جنازہ دوپہر دو بجے ہونا تھی۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور بم ڈسپوزل سکواڈ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا ہے۔ حکام یہ پتہ لگا رہے ہیں کہ کہیں قبرستان میں مزید بم تو نصب نہیں کیے گئے۔

یاد رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں اتوار کو سیاست دانوں پر حملے ہوئے ہیں جن عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سمیت تین رہنما ہلاک ہوگئے جب کہ وزیرِ اعظم کے مشیر امیر مقام بال بال بچے ہیں۔ ان دونوں حملوں میں آٹھ افراد مارے گئے ہیں۔

پشاور کے نواحی علاقے ماشو خیل میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں مشتاق پر اس وقت ہوا جب وہ اس علاقے میں جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔

پشاور کے مرکزی پولیس کنٹرول روم نے نامہ نگار محمود جان بابر سے بات کرتے ہوئے ان کے ساتھ اس واقعے میں دو اور افراد کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی جن میں ایک مقامی رہنما گُل رحمان بھی شامل تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار نے کہا کہ گُل رحمان خدائی خدمت گار تھے اور اس کے باوجود کہ ان رہنماؤں کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، وہ اپنے آبائی علاقے میں موجود تھے۔

ماشو خیل کے ایک رہائشی مسعود خان نے بی بی سی کوبتایا کہ گذشتہ کافی عرصے سے یہاں حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب دو بجے سلیمان خیل میں چار دھماکے کیے گئے ہیں جن سے چارگھر زمین بوس ہو گئے۔

ماشوخیل کا علاقہ خیبرایجنسی سے متصل پشاور کی آخری حد تصور کیا جاتا ہے جو اس قبائلی ایجنسی سے صرف دو کلومیٹر دور ہے۔

اہل علاقہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ عرصہ قبل نامعلوم افراد نے حملہ کر کے شیخ محمد گرڈ سٹیشن کونقصان پہنچایا تھا جس میں کئی پولیس اور واپڈا کے اہل کار ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں