پشاور میں دفعہ 144 نافذ، ڈبل سواری پر پابندی

Image caption عید میلاد النبی کے دوران افغان باشندوں کی پشاور شہر میں داخلے پر پابندی رہے گی

خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں عید میلاد النبی کے موقع پر موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ پیر کو عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کی تدفین سے قبل جنازہ گاہ کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس میں ایک پویس اہل کار زخمی ہوا ہے ۔

پشاور ضلعی انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت شہر میں تین روز کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی اور عید میلاد النبی کے جلوس کے راستے پر موبائل فون سروس معطل رہے گی۔

اس کے علاوہ شہر میں افغان پناہ گزینوں کے داخلے پر بھی پابندی رہے گی۔

پیر کو پشاور کے مضافات میں ماشو خیل کے مقام پر جنازہ گاہ کے قریب دھماکہ ہوا جس میں ایک پولیس اہل کار زخمی ہو گیا ہے۔

یہ دھماکہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں مشتاق کی تدفین سے تین گھنٹے پہلے ہوا۔ میاں مشتاق کو ان کے آبائی قبرستان ماشوخیل میں دفن کر دیا گیا ہے۔ انھیں گذشتہ روز نامعلوم افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جب وہ اپنے گھر سے باہر جانے کے لیے گاڑی میں نکلے تھے۔

Image caption ابتدائی تحقیقات کے مطابق اے این پی کے رہنما میاں مشتاق کو سر میں گولیاں لگیں

ان کی ہلاکت کے بارے میں ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار افراد ان کے انتظار میں گھات لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب ان کی گاڑی بڑی شاہراہ پر جانے کے لیے ایک پل کے پاس آئی تو اس وقت حملہ آوروں نے فائر کھول دیا۔

میاں مشتاق کے ہمراہ ان کے ڈرائیور اور ایک ساتھی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تینوں افراد کو نائن ایم ایم اور 32 بور پستولوں سے فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تینوں افراد کو سروں پر گولیاں لگی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سابق جنرل سیکرٹری ارباب طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور ماہر اور پروفیشنل تھے۔ انھوں نے کہا کہ میاں مشتاق انتہائی ملنسار انسان تھے۔

میاں مشتاق کی عمر لگ بھگ 38 برس تھی۔ وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن میں رہے اور پھر عملی سیاست میں عوامی نیشنل پارٹی کے ضلع پشاور کے صدر اور خیبر پختونخوا کے نائب صدر کے عہدے پر رہے۔ انھوں نے انتخابات میں کبھی حصہ نہیں لیا۔

میاں مشتاق کا گھرانہ علاقے میں مذہبی گھرانہ سمجھا جاتا ہے۔ لوگ ان کی والد مولانا عنایت اللہ مرحوم سے عقیدت رکھتے تھے۔

اسی بارے میں