طالبان کو ’بھائی‘ کہنے پر عمران خان پر تنقید

Image caption اراکینِ سینیٹ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی

پاکستان کے ایوانِ بالا میں صوبہ خیبر پختونخوا کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر بحث کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ ایک جانب صوبے میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف عمران خان طالبان کو’ بھائی‘ کہہ رہے ہیں۔

پشاور: جنازہ گاہ میں دھماکہ، ایک پولیس اہل کار زخمی

وزیرِ اعظم کے مشیر کے قافلے پر حملہ: چھ ہلاک، امیر مقام محفوظ

یاد رہے کہ اتوار کی شام کو صوبہ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی اور حکمران پاکستان مسلم لیگ نواز کے سیاست دانوں پر حملے ہوئے ہیں۔

پشاور میں ہونے والے ایک حملے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی نائب صدر میاں مشتاق سمیت دو رہنما ہلاک ہوگئے جبکہ وزیرِ اعظم کے مشیر امیر مقام شانگلہ میں ہونے والے ایک حملے میں بال بال بچے ہیں۔ ان دونوں حملوں میں آٹھ افراد مارے گئے ہیں۔

Image caption افراسیاب خٹک نے کہا کہ صوبہ روز بروز طالبان کے نرغے میں آنے لگا ہے اور امیر مقام سے بھی بھتے کا مطالبہ کیا گیا ہے

اراکینِ سینیٹ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی اور ان حملوں کو اس کی ناکامی قرار دیا۔

مسلم لیگ نواز کے سینیٹر راجہ ظفر الحق نے اجلاس میں کہا کہ عمران خان کے بیان سے حالات ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔

تحریکِ انصاف پر تنقید کرنے والوں میں افراسیاب خٹک بھی شامل تھے جنھوں نے کہا کہ صوبہ روز بروز طالبان کے نرغے میں آنے لگا ہے۔ انھوں نے کہا امیر مقام سے بھی بھتے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھیں حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے ورنہ حکومت کو برطرف کر دینا چاہیے۔

اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ صوبے میں ہونے والے جنازوں میں نہ تو وزرا شریک ہو رہے ہیں، اور نہ ہی وزیر اعلیٰ، جس سے لگتا ہے کہ تحریکِ انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ ہی نہیں ہے۔

اسی بارے میں