پنجاب،سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈیول منسوخ

Image caption سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا کہ قانون میں ترمیم کے بعد ممکن ہو کہ انتخابات کے قوائد و ضوابط میں بھی تبدیلی کرنی پڑے

سپریم کورٹ کی جانب سے اجازت دیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے پرانے انتخابی شیڈیول کو منسوخ کر دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضروری اقدامات اور مناسب وقت میں ضروری شرائط مکمل ہونے کے بعد دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے لیے نیا انتخابی شیڈیول جاری کر دیا جائے گا۔

چیف جسٹس تصدق جیلانی کی سربراہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو بلدیاتی انتخابات کے کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ ملک کے دو صوبوں میں جاری کردہ بلدیاتی انتخابات کا شیڈیول منسوخ کر کے نئے نظام الاوقات کا اعلان کرے۔

’پنجاب میں نئی حلقہ بندیاں غیرقانونی‘

حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیم غیر آئینی ہے: سندھ ہائی کورٹ

سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اشتیاق احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ سندھ میں 18 جنوری اور پنجاب میں 30 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ہونا تھے، تاہم عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد اب ان تاریخوں پر انتخابات نہیں ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت نے بلدیاتی انتخابات کروانے سے قبل تین اقدامات کی اجازت دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ ملک کی ہائی کورٹوں کے احکامات کے مطابق سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں نے قانون میں جو ترامیم کرنی اور ان سے متعلق جو پیشگی ضروریات پوری کرنی ہیں، پہلے انھیں مکمل کیا جائے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون میں ترمیم کے بعد ممکن ہے کہ انتخابات کے قواعد و ضوابط میں بھی تبدیلی کرنی پڑے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پھر حلقہ بندیوں کے بارے میں بھی فیصلہ ہونا ہے۔

سیکرٹری اشتیاق احمد کا کہنا تھا کہ ان تین مراحل کے مکمل ہونے کے بعد ہی الیکشن کمشن نیا شیڈیول جاری کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان سے بیلٹ پیپرز کے بارے میں پوچھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بیلٹ پیپر پانچ سال تک خراب نہیں ہوں گے۔

ادھر جمہوری اداروں کی ترقی کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ڈیموکریسی انٹرنیشنل (ڈ ی آر آئی ) نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ سال سات دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عام انتخابات کے مقابلے میں کمزور تھے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں منعقدہ سیمینار میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر سات فیصد نشستیں ایسی تھیں جن پر کوئی امیدوار نہ تھا جبکہ 35 فیصد نشستوں پر صرف ایک امیدوار تھا جس کے باعث صرف 58 فیصد نشستوں پر ہی انتخابات ہوئے۔

رپورٹ میں ایک ہی لوکل کونسل کے مختلف حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں نمایاں فرق کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس بنا پر بین الاقوامی قانون کے تحت ضروری ووٹوں کی برابری کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور سیاسی غیر جانبداری ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

اس ضمن میں کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کی یونین کونسل سپلنجی کے ایک وارڈ میرحاضر کی مثال دی گئی جس میں ووٹرز کی تعداد57ہے جبکہ ایک اور وارڈ فتح محمد میں 1926ووٹرز ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور براہ راست دھمکیوں و خطرات کے باعث 32 میں سے10 اضلاع میں الیکشن کی میڈیا کوریج ہی نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں