حکومت کسے پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے؟

چوہدری نثار علی خان
Image caption وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ مذاکرات کا عمل انتہائی حسّاس مرحلے میں ہے

پشتو کی ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ ’گڑا گڑا کوا، خُلہ بہ دے خواگیگی۔‘ گُڑ گُڑ کہتے رہو منہ ویسے ہی میٹھا ہو جائے گا۔ یہی حال وفاقی حکومت کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا عالم ہے۔ منہ میں مذاکرات، مذاکرات کا راگ لیکن زمینی حقائق کچھ نہیں۔

مذاکرات سے انکار کرنے والوں سے جنگ ہو گی: چوہدری نثار

2013: طالبان سے مذاکرات کا خواب ادھورا ہی رہا

طالبان کو مذاکرات سے پہلے تحفظ دیا جائے: مولانا سمیع الحق

دوسری جانب طالبان نے دشمنوں کو ٹھکانے لگانے کی ادا اپنائی ہوئی ہے۔ وہ مسلسل گولی اور بم کی زبان بول رہے ہیں، لیکن ہم جیسے کم فہموں کو یہ زبان 12 سال کے سخت ’کریش کورس‘ کے بعد بھی سمجھ نہیں آئی۔ بعض شاید اسے شدت پسندوں کے محبت کے اظہار کا انداز سمجھتے ہیں۔ معروف تجزیہ نگار نسیم زہرہ نے ایک ٹویٹ میں ایک وفاقی وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں تو ہر طرف گولی چلانے والے ہی نظر آتے ہیں۔‘

کراچی میں چوہدری اسلم کی ہلاکت کے بعد کالعدم تحریک طالبان کے امیر مولوی فضل اللہ اور ترجمان شاہد اللہ شاہد کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے پر تنظیم نے ایک بیان میں فخر کا اظہار کیا ہے۔ کسی قانونی گرفت کی پروا کیے بغیر طالبان کی سوچ فی الحال شاید یہ ہے کہ ’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا!‘

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ مذاکرات کا عمل انتہائی حسّاس مرحلے میں ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ جو طالبان مذاکرات کے لیے تیار ہیں ان سے مذاکرات کریں گے۔ تحریک طالبان میں سے تو کوئی بھی حکیم اللہ کی ہلاکت کے بعد فی الحال مذاکرات کے لیے تیار دکھائی نہیں دے رہا۔ تو پھر حکومت آخر کس کو پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے؟

حافظ گل بہادر گروپ اور ملا نذیر گروپ تو پہلے ہی امن معاہدے خوشی یا غمی میں بھی نبھا رہے ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ ایسی کوئی تنظیم نہیں جس نے ٹی ٹی پی کی پالیسی کے خلاف بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہو۔

لگتا ہے کہ جیسے لڑکیوں کی آدھی زندگی اچھے شوہر کی تلاش میں اور باقی ماندہ ’تلاشی‘ میں گزر جاتی ہے، ایسے میں چوہدری صاحب تو ابھی شاید تلاش کے پہلے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

مولانا سمیع الحق کا پاکستانی طالبان کی بجائے افغان طالبان میں اثر و رسوخ زیادہ ہے، اس لیے انھیں مذاکرات شروع کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان اپنی سی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن بات آگے نہیں بڑھ رہی۔ گفتگو کے آغاز میں تاخیر پر عمران خان کی نواز شریف پر تابڑ توڑ حملے کرنے کے بعد خاموشی بھی معنی خیز ہے۔

Image caption مولانا سمیع الحق کا پاکستانی طالبان کی بجائے افغان طالبان میں اثر و رسوخ زیادہ ہے

مذاکرت کی پہلی سیڑھی جنگ بندی ہونی چاہیے، لیکن اس بابت کوئی فریق کچھ بھی کہنے کو تیار نہیں۔ ہاں مزید خون ریزی کی باتوں کی بہتات ہے۔

سرحد پار اگر نظر ڈالیں تو امریکہ اور افغان صدر حامد کرزئی کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود ان سے مذاکرات کی ریوڑیاں کوئی نہیں خرید رہا، تو ایسا پاکستان میں کیا مختلف ہے کہ یہاں کہ طالبان اچھے بچوں کی طرح حکومت کی بات اس مرتبہ مان لیں گے؟

ان کی شکایات اور مطالبات کی لمبی فہرست ہے۔ یہ مطالبات موجودہ نظام میں مانے نہیں جا سکتے۔

لیکن شاید سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیت سے عاری حکومت کو دکھائی بھی نہیں دیتا۔ چھ ماہ سے تصوراتی گڑ نہ صرف خود کھا رہے ہیں بلکہ عوام کو بھی بڑی فراخ دلی سے کھلا رہے ہیں۔ کبھی تو گڑ ختم ہوگا اور پھر کیا ہوگا؟

اسی بارے میں