کراچی رینجرز کو پولیس میں تبادلوں پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کا آغاز گزشتہ سال ستمبر میں ہوا تھا

کراچی میں رینجرز کے ایک ہنگامی اجلاس میں شہر میں فرقہ واریت، بھتہ خوری، گینگ وار اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو سندھ پولیس میں تبدیلیوں کی بنا پر روکنے پر غور کیا گیا ہے۔

اجلاس میں ان تبادلوں سے ٹارگٹڈ آپریشن کو ناقابل تلافی نقصان کا پہنچنے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

کراچی میں رینجرز حکام نے اپنے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کےموجودہ سیٹ اپ کو ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران برقرار رکھے۔

رینجرز ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان کی سربراہی میں منگل کو رینجرز ہیڈ کواٹر میں اعلٰی سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں کراچی پولیس میں کی جانے والی تقرریوں اور تبادلوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رینجرز حکام نے شہر میں ٹارگٹڈ آپریشن روکے جانے پر بھی غور کیا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس میں تبادوں سے ٹارگٹڈ آپریشن کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

رینجرز حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر من و عن عمل کیا جائے گا ۔ بیان میں یہ بھی توقع ظاہر کی گئی کہ سندھ اور کراچی کے وسیع تر مفاد میں بغیر کسی وجہ کے پولیس میں تبادلے نھیں کیے جائیں گے۔

رابطہ کرنے پر کراچی پولیس کے ترجمان، عتیق شیخ نے بتایا کہ مقامی میڈیا پر یہ خبریں نشر کی جا رہی ہیں مگر حکام کو تاحال کراچی پولیس میں تقرریوں اور تبادلوں کا کوئی حکم نامہ موصول نھیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ: ’ڈی آئی جی ایسٹ، سی آئی اے ، ساؤتھ اور ایس ایس پی ملیر کو تبدیل کیے جانے کی خبریں چل رہی ہیں لیکن ابھی ہمیں معلوم نھیں کہ یہ خبر درست ہے یا غلط کیونکہ سندھ سیکریٹیریٹ کی جانب سے ہمارے پاس اس کا کوئی نوٹیفیکیشن نھیں آیا۔‘

یاد رہے کہ منگل کو کراچی سمیت ملک بھر میں عید میلادالنبی کے موقع پر عام تعطیل تھی جس کی وجہ سے سرکاری دفاتر بند تھے۔

کراچی میں رینجرز کے پاس پولیس کے اختیارات موجود ہیں، جس کے تحت انھیں پولیس کی طرح چھاپے مارنے، گرفتاریوں اور تفتیش کرنے کا حق حاصل ہے۔

اسی بارے میں