ریپ کے قانون میں ترامیم کا بل پیش

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے ایوانِ بالا میں زنا بالجبر کے موجودہ قانون میں ترامیم کا بل پیش کر دیا گیا ہے، جس کے تحت زنا بالجبر کے مقدمات میں ناقص تفتیش پر سزائیں تجویز کی گئیں ہیں۔ ترامیمی قانون کے مسودے میں پولیس اہل کاروں سمیت دیگر سرکاری ملازمین کے زنا بالجبر کا مرتکب ہونے پر سزاؤں کا تعین بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر صغریٰ امام نے رواں ہفتے یہ ترمیمی قانون سینٹ میں پیش کیا۔ سینٹ میں قائدِ ایوان راجہ طفرالحق نے انسدادِ زنا بالجبر کے ترامیمی قانون 2013 کی مخالفت نہیں کی۔ جس کے بعد ترامیمی قانون کا مسودہ سینٹ کی کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھجوایا دیا گیا ہے۔

قانون کے تحت سرکاری ملازم، جیسے پولیس افسر اپنے تھانے کی حدود میں زیادتی کا مرتکب پایا گیا یا کسی بھی ہسپتال، دارالعوام یا فلاحی اداروں میں کوئی بھی سرکاری اہل کار اپنی زیر نگرانی خاتون یا کسی بھی شخص کے ساتھ زنا بالجر کا مرتکب ہوا تو اُسے سزائے موت یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

’ریپ انگریزی کا لفظ ہے، میں نہیں جانتا‘

اس قانون میں کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے کے لیے اہل کاروں کے لیے سزائے موت یا عمر قید کی سزا متعارف کروائی گئی ہے۔ ترمیمی بل میں اجتماعی زیادتی کے مرتکب ایسے سرکاری اہل کار جن کے عزائم مشترک ہوں، ان کے لیے عمر قید یا سزائے موت کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ترمیمی بل میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ زنا بالجبر کا شکار ہونے والی متاثرہ شحض یا خاتون کا نام نہ تو ظاہر کیا جائے اور نہ ہی اخبارات میں شائع کیا جائے۔ ایسا کرنے والے کو دو سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے

پاکستان میں زنا بالجبر کے موجودہ قانون میں اس جرم پر عمر قید یا سزائے موت ہو سکتی ہے۔

سینٹر صغریٰ امام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ قانون میں ترامیم کا مقصد پاکستان میں زنا بالجبر کا شکار ہونے والی خواتین کو تحفظ فراہم کرنا اور انھیں انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

انھوں نے کہا: ’جب ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کسی تھانے میں جا کر رپورٹ درج کرواتی ہے تو ایک عام تاثر ہوتا ہے کہ اُس عورت کا اپنا کردار صحیح نہیں ہے اور پھر تھانے میں موجود اہل کار بھی اکثر اُس کی کمزوری سےفائدہ اُٹھاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ عام شہری کے مقابلے میں سرکاری اہل کار یعنی کسی بھی تھانے کی حدود میں کوئی پولیس اہل کار اگر زنا بالجبر کرتا ہے تو اُس کا جرم عام شہری سے زیادہ بڑا ہے کیونکہ وہ سرکاری عمل دار ہے۔

تعزیراتِ پاکستان کے ضابطۂ فوجداری قانون میں متعارف کروائی جانے والی ترامیم میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ زنا بالجبر کے مقدمے میں تفتیشی افسر کے فرائض میں کوتاہی کرنے اور عدالت میں مقدمے کی مناسب پیروی نہ کرنے کے عمل کو جرم مانا جائے گا، اور ایسی کوتاہی کے مرتکب سرکاری اہل کاروں کو تین سال کی سزا اور جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

ترمیمی بل میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ زنا بالجبر کا شکار ہونے والی متاثرہ شحض یا خاتون کا نام نہ تو ظاہر کیا جائے اور نہ ہی اخبارات میں شائع کیا جائے۔ ایسا کرنے والے کو دو سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

صغریٰ امام کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین میں ترامیم متعارف کروانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ زنا بالجبر کے مقدمات میں سزا دینے کی شرح بہت کم ہے، اور موجودہ قانون کے تحت عام افراد کو سزا نہیں ملتی تو پھر سرکاری افسران کو سزا کیسے ہو گی:

’اگر کوئی پولیس افسر رپپ کرتا ہے پہلے تو اُس کیس کی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی جائے تو تفتیش کون کرتا ہے۔ ان کے ساتھی ناقص تفتیش سے مقدمات کو کمزور کر دیتے ہیں۔‘

قانون میں کہا گیا ہے زنا بالجبر کےمرتکب شحض کا سرکاری ہپستال یا رجسٹرڈ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کروایا جائے جس میں ڈی این اے کے لیے نمونے لینے کے علاوہ ملزم کے جسم پر زخم کے نشانات کا بھی جائزہ لیا جائے۔ دوسری جانب زنا بالجر کا شکار ہونے والے شخص خواہ وہ خاتون ہو یا مرد، اس کا طبی معائنہ 24 گھنٹے میں کرانے کی تجویز دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ طبی معالج میڈیکل رپورٹ بغیر کسی تاخیر کے تفتشی افسر کے ذریعے مجسٹریٹ کو ارسال کرنے کا پابند ہو گا۔

زنا بالجبر کے جرم میں سخت سزائیں تجویز کرنے کے بیان کردہ اغراض و مقاصد میں پپیپلز پارٹی کی رکن سینٹ صغریٰ امام نے کہا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کسی بھی ملزم کو زنا بالجبر کے جرم میں سزا نہیں ہوئی۔

گذشتہ سال دسمبر میں سینٹ میں تحریری جواب میں بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زنا بالجبر کے 103 درج ہونے والے کیسوں میں کوئی ایک ملزم بھی انصاف کے کٹہرے تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ امر اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ اس سنگین فوجداری جرم میں کے لیے موجودہ قانون ناکافی ہے۔

اس ترمیمی مسودے کے تحت عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ مقدمے کی کاروائی مکمل کر کے چھ ماہ کے اندر فیصلہ سنائیں۔ تاخیر کی صورت میں متاثرہ شخص کو متعلقہ ہائیکورٹ میں مقدمہ جلد نمٹانے کے لیے درخواست دائر کا حق دیا گیا ہے۔

پاکستان میں اجتماعی جنسی زیادتی یا زنا بالبر کے واقعات میں متاثرہ شخص کے میڈیکل رپورٹ میں تاخیر سے شواہد مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر ایف آئی آر درج ہو بھی جائے تب بھی ناقص تفتش اور طویل عدالتی کارروائی کی وجہ سے ملزم کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔

اسی بارے میں