کراچی: ’ٹارگٹ کلر‘ گرفتار، چار پولیس اہل کار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رینجرز ترجمان کے مطابق ملزم اسامہ حبیب کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں پولیس اور رینجرز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں چار پولیس اہل کار ہلاک ہوگئے ہیں۔

نیو کراچی کے علاقے شفیق موڑ پر فائرنگ کے ایک واقعے میں دو پولیس اہل کار ہلاک ہوئے۔ ان کی شناخت جاوید اور آصف کے نام سے کی گئی ہے۔

ایس ایس پی عامر فاروقی کا کہنا ہے کہ پولیس اہل کار معمول کی چیکنگ کر رہے تھے کہ کچھ نوجوان آئے اور فائرنگ کر دی جس میں دونوں اہل کار ہلاک ہوگئے۔

اس سے پہلے بدھ کی شب سہراب گوٹھ فلائی اوور کے قریب فائرنگ میں دو ٹریفک اہل کار ہلاک ہوئے۔ ایس ایس پی وسطی عامر فاروقی کا کہنا ہے کہ ملزمان نے چوکی پر فائرنگ کی اور موٹر سائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے ملنے والے گولیوں کے خول سے ابتدائی اندازہ یہ ہے کہ اس میں تحریک طالبان ملوث ہوسکتی ہے۔

ادھر گذشتہ شام برنس روڈ پر رینجرز کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق ملزمان نے تنگ گلیوں میں سے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم جوابی فائرنگ میں دو ملزمان زخمی ہوگئے جن میں سے بعد میں ایک زخموں کی تاب نہ لا کر فوت ہوگیا۔

دوسری جانب رینجرز نے کراچی ہوائی اڈے سے ایک مبینہ ٹارگٹ کلر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

رینجرز ترجمان کے مطابق ملزم اسامہ حبیب کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے اور وہ قتل، اقدام قتل اور ہنگامہ آرائی کے کئی درجن واقعات میں ملوث ہے۔

اسی بارے میں