لاپتہ کیس:’18 رہا کر دیے، 30 حراستی مراکز میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکام لوگوں پر رحم کریں اور لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لایا جائے: عدالت

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ میں 48 لاپتہ افراد کی تفصیلات پیش کر دی ہیں جبکہ باقی افراد کے بارے میں معلومات کے لیے مزید ایک ماہ کا وقت مانگا ہے۔

جبراً گمشدہ یا لاپتہ ہونے والے سینکڑوں افراد کے مقدمات اس وقت پشاور ہائی کورٹ میں دائر ہیں جن میں سے تقریباً 400 مقدمات جمعرات کو زیرِ سماعت تھے۔

لاپتہ افراد کے وکیل اعجاز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو سماعت کے موقع پر عدالت میں وفاقی وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے نمائندے موجود تھے۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل مزمل خان نے عدالت کو بتایا کہ 18 لاپتہ افراد کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ 30 افراد ایسے ہیں جنھیں مختلف حراستی مراکز میں بھیجا گیا ہے۔

یہ انٹرمنٹ سنٹرز یا حراستی مراکز سنہ 2011 میں قائم کیے گئے تھے۔

پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے جج جسٹس میاں فصیح الملک نے مقدمے کی سماعت کے دوران متعلقہ حکام سے کہا وہ لوگوں پر رحم کریں اور ان لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جبراً گمشدہ یا لاپتہ ہونے والے سینکڑوں افراد کے مقدمات اس وقت پشاور ہائی کورٹ میں دائر ہیں

اعجاز خان ایڈووکیٹ اس وقت نو گمشدہ افراد کے مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق ہنگو اور کوہاٹ سے ہے۔ انھوں نےکہا کہ اگرچہ جمعرات کو چار سو سے زیادہ لاپتہ افراد کے مقدمات زیرِ سماعت تھے لیکن ان پر کوئی طویل بحث نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کے پاس واحد آسرا عدالت ہی ہے اس لیے انھیں لگتا ہے کہ عدالت کی یہ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لاپتہ افراد کو جلد سے جلد منظر عام پر لایا جائے۔

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس میں لاپتہ افراد کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے ایوان کو بتایا تھا کہ اس وقت پاکستان بھر میں 1400 سے زیادہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت مختلف عدالتوں میں ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں چند سال پہلے سکیورٹی فورسز کے آپریشنوں میں مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد کو دہشت گردی اور شدت پسندی کے الزامات کے تحت خفیہ اداروں نے حراست میں لے لیا تھا۔

ان گرفتار ہونے والوں میں سے سینکڑوں افراد عدالتوں کے حکم پر رہا کیے جا چکے ہیں تاہم اب بھی ایسے سینکڑوں افراد ہیں جو سکیورٹی فورسز کی طرف سے قائم حراستی مراکز میں بند ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں