سانول تیری باتیں یاد آ رہی ہیں

Image caption میں نے آج تک کوئی ایک انسان نہیں دیکھا جو تجھے جانتا ہو اور تیری محبت میں گرفتار نہ ہو

یار سانول ابھی چند باتیں کرنی تھیں۔ تجھے کچھ بتانا تھا، کچھ پوچھنا تھا اور معافیاں بھی مانگنی تھیں۔

جلدی میں تُو تو تو رہتا ہی تھا لیکن ایسا بھی کیا؟ زندگی کا اختتام تو ایک ازلی حقیقت ہے، تُو چلا گیا، ہم سب بھی چلے جائیں گے۔۔۔ لیکن یار یہ ایک ایسی ریس ہے جو ہم جیتنا تو نہیں چاہتے۔

شاید کوئی بھی جیتنا نہیں چاہتا، بس کچھ لوگ ہوتے ہیں یگانے تیری طرح جو خوشیاں، محبتیں اور سُر بانٹ کر چلے جاتے ہیں۔

ڈان ڈاٹ کام کے مدیر مصدق سانول انتقال کر گئے

تیرے ساتھ میری ملاقات محمد حنیف نے کرائی، 90 کی دہائی کے پہلے برسوں میں۔ مجھے رہنے کو مناسب جگہ چاہیے تھی اور تجھے ایک مناسب فلیٹ میٹ۔ تیرے دوست محمد حنیف نے، جو خود صحافت کے علاوہ ایک چھوٹا ایدھی سینٹر چلاتا ہے، اس معاملے کو حل کرایا۔

بس پھر کیا تھا میں ڈیفینس فیز ون میں کیو ٹی سپر مارکیٹ کے ساتھ والی بلڈنگ کے فلیٹ میں مصدق سانول کے ساتھ فوراً منتقل ہوگیا اور لگا کہ زندگی جیسے کہ سیٹ ہوگئی۔ ان دنوں زندگی کے بہت زیادہ مطالبے نہیں تھے۔ بس دو وقت کا کھانا، مناسب سی رہنے کی جگہ، کچھ دوستوں کے قہقہے، شاموں کا بندوبست۔۔۔ بس زندگی سیٹ۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تجھ سے ایک معافی بھی مانگنی تھی یار۔۔۔ہم تینوں یعنی محمد حنیف، حسن مجتبیٰ اور میری وجہ سے جو تم پر افتاد آئی اس کی معافی مانگنا تھی

لیکن سانول تجھے بتانا تھا کہ تیرے ساتھ اور تیرے دوستوں کے ساتھ گزارے وہ دن بہت ہی خوبصورت تھے۔ تُو جیسے ایک ماں کی طرح یار میرا خیال کرتا تھا۔ گو جب تُو صبح کو چھ بجے دل میں پیوست ہوجانے والی اپنی صوفیانہ آواز میں ریاض شروع کرتا تھا تو میری نیند خراب ہوتی تھی۔ لیکن پھر جب تو اصلی مکھن میں بنا پراٹھا اور چائے لا کر میرے سرہانے کھڑا مسکرا رہا ہوتا تھا تو تجھ پر بہت پیار آتا تھا۔

تیری شاموں کا کیا کہنا۔ ہر لمحہ تیرے ساتھ بس ایک نیا خوشگوار تجربہ تھا۔ تیری ڈرامے کی ریہرسل ، تیرے نغمے، تیری دھنیں، تیری صوفی صحبتیں اور تیرے گھر کے کونے کونے سے ملنے والی غیر قانونی اشیا۔۔۔ کیسے کوئی فراموش کر سکتا ہے۔

لندن میں تیرے ساتھ گزارے دن اور خاص طور پر شامیں، سرد ہواؤں میں آوارگیاں، گھروں کو جاتے جاتے، بس ایک آخری پائینٹ کے لیے گرم گداز پبوں میں گھس جانا اور اپنے اپنے بچوں کے معار کے سناتے نہ تھکنا۔۔۔ بس کل ہی کی تو بات معلوم ہوتی ہے۔

عباس ناصر تجھے لے گیا وطن عزیز، ڈان ڈاٹ کام کا ایڈیٹر بنا کر۔۔۔یار تجھے بتانا تھا کہ ہم نے بہت یاد کیا تجھے۔ تیرے جیسا دل بہت نایاب ہے۔ ایسا گرم، محبت انڈیلتا، پیار اور دوستی لٹاتا دل کہاں دستیاب ہے؟ تیرے ساتھ جو ایک مرتبہ ملا، بس تیرا ہو کے رہ گیا۔

Image caption گو جب تُو صبح کو چھ بجے دل میں پیوست ہوجانے والی اپنی صوفیانہ آواز میں ریاض شروع کرتا تھا

میں نے تیری پیشہ ورانہ خصوصیات کا ذکر یہاں نہیں کیا کیونکہ یہ دن بس تیری شخصیت کو یاد کرنے اور اس کے گن گانے کا دن ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو جو تو نے جدت دی اور جن تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا وہ کسی طفل مکتب کا تو خاصہ ہو نہیں سکتا۔ اور سسکتے ڈان ڈاٹ کام میں تو تُونے جیسے جان ڈال دی۔۔

میں نے آج تک کوئی ایک انسان نہیں دیکھا جو تجھے جانتا ہو اور تیری محبت میں گرفتار نہ ہو۔

تجھ سے ایک معافی بھی مانگنی تھی یار۔۔۔ہم تینوں یعنی محمد حنیف، حسن مجتبیٰ اور میری وجہ سے جو تم پر افتاد آئی اس کی معافی مانگنا تھی۔گذشتہ 20 برس سے یہ معافی واجب الادا تھی۔ کراچی پولیس کا جو تو موسٹ وانٹید مین بنا۔۔۔ اس کے لیے تجھ سے معافی مانگنا تھی۔ پولیس اہلکاروں سے گتھم گتھا ہم ہوئے لیکن تشدد تجھے برداشت کرنا پڑا۔ اور تو بھی کیسا یار ہے کہ ایک بار بھی اُف نہیں کیا۔ کبھی شکایت نہیں کی۔

اب تو چلا گیا ہے۔۔۔ ساری باتیں یاد آ رہی ہیں۔۔۔آنکھیں نم ہیں لیکن لبوں پر تیری زندگی کی مسکراہٹ ہے۔

اسی بارے میں