کراچی میں فائرنگ، جے یو آئی کے رہنما عثمان یار ہلاک

Image caption مفتی عثمان یار کا تعلق سوات سے تھا وہ جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق سندھ کے جنرل سیکریٹری تھے

کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے رہنما مفتی عثمان یار سمیت تین افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

یہ واقعہ جمعے کی شام شاہراہ فیصل پر عوامی مرکز کے پاس پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے سفید رنگ کی کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کار میں سوار چاروں افراد زخمی ہوگئے جنھیں جناح ہپستال پہنچایا گیا۔

جناح ہسپتال کے شعبے حادثات کی انچارج سیمی جمالی نے تصدیق کی کہ فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ایک زخمی کی زندگی بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

گلشن اقبال پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے رہنما مفتی عثمان یار بھی شامل ہیں۔

ایس ایس پی گلشن مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ مفتی عثمان یار کی گاڑی پر دو اطراف سے موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے فائرنگ کی۔

انہوں نے بتایا کہ جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے خول ملے ہیں، جنہیں فارنسک لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔

مفتی عثمان یار کا تعلق سوات سے تھا وہ جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق سندھ کے جنرل سیکریٹری اور گلستان جوہر کے مدرسے جامعہ دارالخیر کے مہتم تھے۔

گذشتہ انتخابات میں وہ متحدہ دینی محاذ کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کے حلقے 258 سے انتخاب بھی لڑے تھے اور چھ ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔

اہل سنت و الجماعت کے مرکزی رہنما مولانا احمد لدھیانوی نے قاری عثمان یار کے قتل کی مذمت کی اور کہا ہے کہ واقعہ فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش ہے۔

جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے بھی مفتی عثمان یار کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلم امہ اپنے ایک سکالر سے محروم ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں