’دنیا محفوظ تر اور پاکستان زیادہ غیر محفوظ ہوا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’آپ کو عام حالات میں کام کرنے والے ایک پولیس افسر سے بڑھ کر کام کرنا ہوگا۔‘

پاکستان کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد دنیا محفوظ تر ہوگئی ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان زیادہ غیر محفوظ ہو گیا ہے۔

اسلام آباد میں نیشنل پولیس اکیڈمی میں پولیس افسران کی پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے نائن الیون سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ نیویارک کے اس وحشیانہ واقعے کے ملزمان میں سے کسی کا پاکستان سے تعلق نہیں تھا۔

’مذاکرات سے انکار کرنے والوں سے جنگ ہو گی‘

انھوں نے کہا اس کے باوجود بدقسمتی سے اس واقعے کے نتیجے میں ہونے والے واقعات میں سے زیادہ تر پاکستان نے سہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اس بات کا احساس نہیں ہے کہ پاکستان کن مشکلات سے دو چار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے 26000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور بین الاقوامی برادری کو اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کس قدر غیر محفوظ ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسی حالتِ جنگ میں ہے جس میں ملک دشمن عناصر سکیورٹی فورسز کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں اور یہ ایک انتہائی مشکل جنگ ہے۔ ’اسی لیے آپ کو عام حالات میں کام کرنے والے ایک پولیس افسر سے بڑھ کر کام کرنا ہوگا۔‘

انھوں نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ انھیں پاکستانی فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل پاکستان میں ’ہوش‘ بحال کرنے کا کام کرنا ہوگا۔

اس موقع پر انہوں نے بین الاقوامی برادری میں ان ممالک اور تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے پاکستان کی مدد کے لیے نیشنل پولیس اکیڈمیوں کی امداد کی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے حال ہی اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومتِ پاکستان کی مذاکرات کی پیش کش قبول نہ کرنے وال شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ان کا تعاقب کریں گے۔

پاکستان میں حالیہ شدت پسندانہ حملوں میں اعلیٰ سیاسی اور سرکاری شخصیات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد حکومت سے طالبان کے خلاف کارروائی یا مذاکرات میں پیش رفت کے لیے دباؤ بڑھا ہے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کا فیصلہ کل جماعتی کانفرنس کے بعد کیا گیا تھا اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کی مشاورت شامل تھی۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ’طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ان کے خلاف کارروائی دونوں مشکل اقدامات ہیں۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی وجہ سے ان پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’مختلف گروہوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔‘

اسی بارے میں