سرگودھا: اہل سنت والجماعت کے دو کارکن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے اہل سنت والجماعت کے دو رکن ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

سرگودھا کے تھانہ سٹی کے ایس ایچ او خرم انور نے بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے نوری گیٹ کے قریب اہل سنت والجماعت بھکر کے سربراہ مولانا عبدل حمید خالد کی ڈبل کیبن گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور مولانا عبدل حمید خالد سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

ایس ایچ او خرم انور کے مطابق مولانا عبدل حمید کو معمول زخم آئے ہیں اور وہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے لیے ضلع بھکر سے سرگودھا آئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے کارکنوں کی نمازِ جنازہ شہر کے کمپنی باغ میں ادا کی جائے گی اور اس کے بعد لاشوں کو بھکر روانہ کر دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ حملہ آوروں کے بارے میں ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا اور اس ضمن میں تحقیقات جاری ہیں۔

خرم انور کے مطابق سرگرودھا شہر میں اس سے پہلے بھی فرقہ وارانہ بنیاد پر ہلاکتیں ہو چکی ہیں لیکن ہلاکتوں کو یہ واقعہ ایک طویل عرصے کے بعد پیش آیا ہے۔

صوبہ پنجاب کے شہر بھکر میں گذشتہ سال اگست میں دو مذہبی گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہونے پر رینجرز اہلکاروں کو طلب کیا گیا تھا۔

تشدد کے اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں چھ اہلِ سنت والجماعت کے رکن، تین شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد اور ایک بریلوی مسلک کے شخص شامل تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں راولپنڈی میں یوم عاشور پر فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد سے ملک میں فرقہ وارانہ شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رواں ماہ جنوری میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فائرنگ سے اہل سنت والجماعت کے رہنما سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے پہلےگذشتہ ماہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شیعہ رہمنا ناصر عباس نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی ماہ لاہور میں اہل سنت والجماعت کے صوبائی صدر شمس الرحمان معاویہ کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے ہدف بنا کر ہلاک کر دیا تھا۔

تنظیم اہل سنت والجماعت 12 جنوری 2002 کو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے سپاہِ صحابہ نامی جماعت پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی تھی۔

اسی بارے میں