الجزیرہ کے نمائندے کو ’اغوا‘ کرنے کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ Ahmed Zaidan
Image caption ’کُل چھ افراد تین گاڑیوں میں سوار ان کے مکان آئے تھے جن میں سے تین کے پاس اسلحہ تھا‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں الجزیرہ کے نمائندے احمد موفق زیدان کے مکان پر ہفتے کی شام نامعلوم افراد نے زبردستی گھسنے کی کوشش کی اور مزحمت کرنے پر فرار ہو گئے۔

احمد زیدان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہفتے کی شام جب وہ دفتر سے جی 10 سیکٹر میں واقع اپنے مکان پہنچے تو کچھ افراد ان کے مکان آئے۔

’میرے مکان پر تعینات گارڈز سے انھوں نے کہا کہ وہ انٹیلیجنس ایجنسی سے ہیں اور زیدان کو بلا دیں۔ گارڈز نے کہا کہ ہم نہیں بلا سکتے جس پر وہ زبردستی گیٹ کھول کر داخل ہوئے۔‘

زیدان نے کہا کہ کُل چھ افراد تین گاڑیوں میں سوار ان کے مکان آئے تھے جن میں سے تین کے پاس اسلحہ تھا۔

انھوں نے بتایا کہ نامعلوم افراد میں دو یا تین افراد نے دروازہ کھٹکایا۔ ’میں نے اندر سے پوچھا کون ہے تو کوئی جواب نہیں آیا۔ میں نے تھوڑا سے دروازہ کھولا تو ایک شخص زبردستی اندر داخل ہوا۔

میں نے اس کو دھکا دیا اور لات ماری اور دروازے سے باہر نکال کر دروازہ بند کردیا۔ اس کے بعد میں نے پولیس اور دوستوں کو فون کیے۔‘

احمد زیدان نے بتایا کہ ان کو ایس ایس پی اسلام آباد ڈاکٹر رضوان نے آج یعنی اتوار کو طلب کیا ہے تاکہ تحقیقات میں پیش رفت ہو سکے۔

احمد زیدان کم از کم پندرہ سالوں سے پاکستان میں رہائش پذیر ہیں اور کافی عرصے سے الجزیرہ کے ساتھ منسلک ہیں۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کسی خفیہ ادارے کی کارروائی نہیں لگتی بلکہ ایک جرائم پیشہ گروہ ہے جس نے پہلے اسلام آباد کے سیکٹر ایف 10 میں کارروائی کی تھی۔

یاد رہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو صحافیوں کی حفاظت کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرے گی۔

دو دن پہلے ہی جمعہ کو کراچی میں ایک نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے عملے پر مسلح افراد کی فائرنگ میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں