آج بھی بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہیں: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہم سمجھتے ہیں یہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ، بااختیار اور مخلص نہیں ہے: طالبان

پاکستان کی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی رہنما کا کہنا ہے کہ اتوار کو بنوں چھاؤنی میں دھماکہ مولانا ولی الرحمان کی موت کا بدلا ہے۔

خط میں مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ مولانا ولی الرحمان تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

میڈیا کو جاری کیے گئے ایک خط میں کالعدم تنظیم کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ’ہم سمجھتے ہیں یہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ، بااختیار اور مخلص نہیں ہے ورنہ عین مذاکرات کی پیشکش کے دوران ہمارے صف اول کے رہنماؤں کو نشانہ نہ بناتی۔‘

مذاکرات کے حوالے سے طالبان نے اس خط میں ایک بار پھر کہا کہ ان کا موقف بالکل واضح ہے۔

’اگر حکومت اپنا اختیار اور اخلاص ثابت کرے تو ہم باوجود اتنے نقصانات کے آج بھی بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘

اتوار کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں فوج کی چھاؤنی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس میں 20 اہلکار ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

چند روز پہلے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ بات چیت سے انکار کرنے والوں سے جنگ ہو گی اور مذاکرات کی پیش کش قبول نہ کرنے والوں کا تعاقب کریں گے۔

لیکن اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات حکومت کی پہلی ترجیح ہیں۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کا فیصلہ کل جماعتی کانفرنس کے بعد کیا گیا تھا اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کی مشاورت شامل تھی۔

اسی بارے میں