’داخلی سکیورٹی پالیسی‘ آج کابینہ میں زیرِ غور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرِ داخلہ کی دلیل ہے کہ نائن الیون سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ نیویارک کے اس وحشیانہ واقعے کے ملزمان میں سے کسی کا پاکستان سے تعلق نہیں تھا

پاکستان کی کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں آج ملک کی داخلی سکیورٹی کی پالیسی پر غور کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ ملک کے لیے مجوزہ داخلی سکیورٹی کی پالیسی کے تحت قومی انسدادِ دہشتگردی اتھارٹی قائم کی جائے گی۔

اتوار کی شب میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا اس پالیسی کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی صلاحیت میں اضافہ کرکے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کے تین جز ہوں گے، خفیہ، سٹراٹیجک اور آپریشنل۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پالیسی کے تحت ایک نیا ادارہ قومی انسدادِ دہشتگردی اتھارٹی بھی قائم کیا جائے گا جس میں جوائنٹ انٹیلیجنس ڈائریکٹریٹ کا کام ملک میں 26 انٹیلیجنس ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی اور معلومات کا تبادلہ ہوگا۔

اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ وفاقی سطح پر ایک ریپڈ ریسپونس فورس بھی تیار کی جائے گی جس میں ایک فضائی ونگ بھی ہوگا۔ چوہدری نثار نے کہا کہ دہشتگردی کے کسی بھی واقعے کے بعد چند ہی منٹوں میں یہ فورس حرکت میں آ جائے گی اور اسی طرح کی فورسز صوبوں میں بھی بنائی جائیں گی۔

ملک میں شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے حوالے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پالیسی کے سٹراٹیجک جز کے تحت یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ کب مذاکرات کیے جائیں، کب فوجی کارروائی کی جائے اور کب یہ دونوں کیے جائیں۔

یاد رہے کہ پیر کی صبح شہر راولپنڈی کے آر اے بازار میں دھماکہ ہوا ہے جس میں نو ہلاک اور 18 افراد زخمی ہیں۔اس علاقے میں پاکستان کی چند حساس تنصیبات انتہائی قریب ہی واقع ہیں جن میں برّی فوج کا صدر دفتر جی ایچ کیو شامل ہے۔

اس کے علاوہ اتوار کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں فوج کی چھاؤنی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس میں 20 اہل کار ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

اسی روز اسلام آباد میں نیشنل پولیس اکیڈمی میں پولیس افسران کی پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ نائن الیون کے بعد دنیا محفوظ تر ہوگئی ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان زیادہ غیر محفوظ ہو گیا ہے۔

وزیرِ داخلہ کی دلیل ہے کہ نائن الیون سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ نیویارک کے اس وحشیانہ واقعے کے ملزمان میں سے کسی کا پاکستان سے تعلق نہیں تھا۔ انھوں نے کہا اس کے باوجود بدقسمتی سے اس واقعے کے نتیجے میں ہونے والے واقعات میں سے زیادہ تر پاکستان نے سہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اس بات کا احساس نہیں ہے کہ پاکستان کن مشکلات سے دو چار ہے۔

اس سے پہلے چوہدری نثار علی خیان کہہ چکے ہیں کہ ملک میں مذاکرات سے انکار کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف ریاستِ پاکستان جنگ کرے گی۔

پاکستان میں حالیہ شدت پسندانہ حملوں میں اعلیٰ سیاسی اور سرکاری شخصیات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد حکومت سے طالبان کے خلاف کارروائی یا مذاکرات میں پیش رفت کے لیے دباؤ بڑھا ہے۔

یاد رہے کہ ملک میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے میاں نواز شریف کی حکومت نے برسرِاقتدار آتے ہی شدت پسند عناصر سے مذاکرات کی بات کی تھی تاہم حکومتی اس سطح پر اس سلسلے میں کسی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں