راولپنڈی: سرچ آپریشن میں 50 سے زائد افراد حراست میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس علاقے میں پاکستان کی چند حساس تنصیبات انتہائی قریب ہی واقع ہیں جن میں برّی فوج کا صدر دفتر جی ایچ کیو شامل ہے

پاکستان کے دارالحکومت سے ملحق شہر راولپنڈی کے علاقے آر اے بازار میں دھماکے کے بعد سرچ آپریشن میں مختلف علاقوں سے 50 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پیر کو پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر سے ملحق علاقے آر اے بازار میں ہونے والے خودکش دھماکے میں حملہ آور سمیت 13 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے تھے۔

منگل کی صبح بنگش کالونی، فوجی کالونی، اور پیر ودھائی کے علاقوں میں سرچ آپریشن کیا گیا، جس میں مقامی پولیس کے مطابق 50 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کے پاس قومی شناختی کارڈ نہیں تھا یا ان کا علاقے میں قیام کا کوئی ثبوت نہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں مقامی لوگ بہت کم ہیں۔

پولیس کے مطابق پیر کو جو پانچ مشتبہ لوگ پکڑے گئے تھے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان افراد میں ایک زخمی افغان باشندہ بھی شامل ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وے فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ کہ حملہ آور کی عمر 18 سال کے لگ بھگ ہے اور وہ حملے سے قبل تین مرتبہ اس مقام سے موٹر سائیکل پر گزرا۔ جس وقت اسے چند فوجی اکٹھے نظر آئے اس وقت اس نے دھماکہ کر دیا۔

تفتیشی ادارے علاقے میں نصب ٹیلی فون ٹاورز کی حامل کمپنیوں سے ٹیلی فون ریکارڈ طلب کر رہے ہیں تاکہ وہاں لوگوں میں کیے جانے والے رابطوں سے تحقیقات میں مدد لی جائے۔

اس سے پہلے سنہ 2009 میں جی ایچ کیو پر حملے کے بعد ارد گرد مقیم لوگوں کے کوائف لیے گئے تھے۔ انھی کوائف کی روشنی میں لوگوں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

سکیورٹی فورسز نے پولیس سے دریافت کیا ہے سنہ 2009 اور 2010 کے بعد کرائے پر رہنے والے لوگوں کا ریکارڈ اپ ڈیٹ کیوں نہیں کیا گیا۔

پیر کو راولپنڈی کے آر اے بازار میں ہونے والے خود کش دھماکے میں 13 افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک مقامی سکول کے بچے بھی شامل ہیں۔

اس علاقے میں پاکستان کی چند حساس تنصیبات انتہائی قریب ہی واقع ہیں جن میں برّی فوج کا صدر دفتر جی ایچ کیو شامل ہے۔

راولپنڈی میں پوٹھوہار ٹاؤن کے ایس پی ہارون جوئیہ کے مطابق اس واقعے میں 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے چھ حاضر سروس فوجی اور چھ عام شہری تھے۔

ہیڈ کانسٹیبل توقیر نے بتایا کہ یہ دھماکہ آر اے بازار کے مرکزی چوک اور 22 نمبر چونگی کے درمیان سڑک پر ہوا۔

اس مقام پر سنہ 2008 اور 2009 میں بھی حملے ہو چکے ہیں۔

راولپنڈی میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان نے قبول کرتے ہوئے اسے تنظیم کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے ایک جانب مذاکرات کی باتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری جانب ان کے خلاف کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

اسلام آباد میں چھاپہ

اُدھر وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے ترنول میں پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر 100 کلو گرام کے قریب آتش گیر مادہ برآمد کرکے تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان تینوں افراد کا تعلق صوبہ خیبر پختون خوا کے علاقے مالاکنڈ ایجنسی سے ہے۔

ایس پی صدر جمیل ہاشمی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ تھانہ ترنول کی حدود میں عباسی کالونی میں واقع ایک گھر میں بڑی مقدار میں آتش گیر مادہ رکھا ہوا ہے جس پر پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ مکان پر چھاپہ مارا گیا اور اُس میں موجود تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

گرفتار ہونے والے افراد میں سیف الرحمن، شاہ فیصل اور احمد یار شامل ہیں۔ ایس پی صدر کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے بتایا ہے کہ اُنھوں نے یہ آتش گیر مادہ پہاڑوں میں بلاسٹ کرنے کے لیے منگوایا تھا تاہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں بڑی تعداد میں قبائلی باشندے آباد ہیں اور پولیس افسر کے بقول اس علاقے میں پچھلے کچھ عرصے میں تلاشی کے عمل کے دوران 100 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں