’مذاکرات کا برملا اظہار کرنے سے فورس کا مورال گر جاتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption رواں مالی سال کے بجٹ میں ایف سی کے لیے 28 ارب روپے رکھے گئے تھے جب کہ ان میں سے 15 ارب روپے ریلیز کیے گئے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں فرنٹیر کور کے سربراہ میجر جنرل اعجاز شاہد نے کہا ہے کہ حکومت ناراض بلوچوں سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو بےشک کرے لیکن اس کا برملا اظہار نہ کرے کیونکہ اس سے فورس کا مورال گر جاتا ہے۔

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی داخلہ امور سے متعلق قائمہ کمیٹی کے ارکان کو بدھ کو بریفنگ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صوبے میں بدامنی پھیلانے والے ناراض بلوچ نہیں بلکہ شرپسند ہیں۔

میجر جنرل اعجاز شاہد کا کہنا تھا کہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے پر فورس تذبذب کا شکار ہوجاتی ہے کہ آیا وہ ناراض بلوچوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے یا شرپسندوں کے خلاف۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقے آواران میں شدت پسندوں کی جانب سے 67 حملے کیے گئے لیکن پالیسی کی وجہ سے فوج اور ایف سی شدت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی نہیں کرسکی

میجر جنرل اعجاز شاہد کے مطابق صوبے کے تعلیمی اداروں میں آج بھی قومی ترانہ نہیں پڑھایا جاسکتا تاہم اب ہم ان اداروں میں پاکستانی پرچم دوبارہ لہرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ گزشتہ چھ سال کے دوران 360 ایف سی کے اہل کار ہلاک اور 928 زخمی ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان سے 87 افراد لاپتہ ہوئے جن میں سے 19 افراد کی جبری گمشدگی میں ایف سی کے اہل کاروں کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔

آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ صوبے سے 30 ٹن آتش گیر مادہ برآمد کیا گیا گیا۔ انھوں نے ایک سیاسی وابسطگی رکھنے والی شخصیت کا نام لیے بغیر کہا کہ اُن کے قبضے سے ڈیڑھ ٹن آتش گیر مادہ برآمد ہوا جبکہ عدالت نے صرف ایک شخص کو سزا دی اور باقی ملزمان رہا کر دیے۔

میجر جنرل اعجاز شاہد کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں ایف سی کے لیے 28 ارب روپے رکھے گئے تھے جب کہ ان میں سے 15 ارب روپے ریلیز کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایف سی کے پاس ایک پُرانا ہیلی کاپٹر ہے جس کو استعمال میں لانے کے لیے بھی’ اسلام آباد‘ سے اجازت لینا پڑتی ہے جس سے آپریشنل کارروائیاں متاثر ہوتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈس ہائی وے پر شاہ زین بگٹی اور قبیلے کے دیگر افراد نے دھرنا دیا ہوا ہے جس سے عام لوگ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

اعجاز شاہد کا کہنا ہے کہ حکومت مظاہرین سے مزاکرات کر رہی ہے اور اگر یہ معاملہ پرامن طور پر حل ہوجاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ طاقت کا استعمال ناگزیر ہے۔

داخلہ امور کے وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ناراض بلوچ ایک حقیقت ہے اور حکومت ان کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جو وہاں کے حالات کو خراب کر رہی ہے۔

اسی بارے میں