فوج کے ساتھ بھی ظلم ہوا، میں فوج کے ساتھ ہوں: عمران خان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’فوجی آپریشن ہو رہا ہے یا نہیں، اس بارے میں کچھ معلوم نہیں‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور ’لگتا ہے ہم فوجی آپریشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘

عمران خان نے یہ بات اسلام آباد میں بدھ کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا: ’ظاہر ہے ہم پاکستانی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے ساتھ بھی ظلم ہوا ہے انھیں معلوم ہی نہیں کہ نو ماہ تک کیا ہوتا رہا ہے۔‘

انھوں نے وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ حکومت کو جو مذاکرات کا مینڈیٹ دیا گیا تھا اس پر کیا کیا گیا؟

’فوجی آپریشن ہو رہا ہے یا نہیں، اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ حکومت کو کم از کم پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کو بند کمرے میں بریفنگ دینی چاہیے تھی۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ حکومت کو امن کے لیے مینڈیٹ دیا گیا تھا لیکن وزیر اعظم دنیا کے چکر لگاتے رہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا کہ تمام جماعتوں نے حکومت کو مذاکرات کا مینڈیٹ دیا تھا لیکن لگتا ہے ہم فوجی آپریشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے۔ حکومت نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ مذاکرات کرے گی، بہت دیر سے آل پارٹیز کانفرنس بلوائی گئی اس میں تمام جماعتوں نے حکومت کو مینڈیٹ دیا۔

’جب امریکیوں نے ڈرون مار کر مذاکرات کو ختم کیا تو اس کے بعد حکومت نے کیا ایکشن لیا؟ کیا بات آگے بڑھی؟ مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ لگ رہا ہے کہ ہم فوجی آپریشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ فوجی آپریشن کے اثرات معلوم ہوں گے، لیکن انھیں افسوس ہے کہ اس سے دشمنوں کو فائدہ ہوا ہے جو چاہتے تھے کہ امن نہ ہو۔

دوسری جانب پاکستان میں حالیہ بم حملوں اور جواب میں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی بمباری کے بعد پاکستان کی حکمران جماعتوں کا الگ الگ موقف سامنے آ رہا ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے وزیر برائے دفاعی پیداوار راجہ تنویر اور سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کی کارروائی کو آپریشن کا آغاز نہ سمجھا جائے اور یہ کہ ان کی جماعت طالبان سے مذاکرات کے فیصلے پر اب بھی قائم ہے۔

مسلم لیگ ن کی اتحادی جمعیت علمائے اسلام کے اپنے ہی دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ وہ فوجی آپریشن کے حق میں نہیں اور نہ ہی ان کی جماعت اس کی حمایت کرے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر دوہرا معیار رکھنے والوں کو تنقید کی ہے اور مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا ہے۔

اسی بارے میں