لائن آف کنٹرول پر تجارت تنازعے کا شکار

 ایل او سی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متفقّہ معاہدے کے تحت دونوں جانب سے ٹرک ایک ساتھ ایل او سی عبور کرتے ہیں تاکہ کوئی بھی فریق کسی کا ٹرک روک نہ سکے

لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب جاری تجارت ایک بار پھر تنازعے کا شکار ہو گئی ہے۔ اب کی بار بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس نے تجارتی سامان میں بڑے پیمانے پر منشیات برآمد کیے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام اس الزام سے انکار کر رہے ہیں۔

تنازعے کی وجہ سے پاکستان کے زیرِ انتظام تاجروں کے 49 ٹرک جبکہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے 27 ٹرک ایل او سی پر پھنسے ہوئے ہیں۔

دونوں جانب سے متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اب یہ ان کے بس کی بات نہیں رہی بلکہ اسے پاکستان اور بھارت کے دفاتر خارجہ اور حکومتیں ہی حل کریں گی۔

بھارت اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے تاجر اور کاشتکاروں کے درمیان سرینگر، مظفرآباد شاہراہ کے راستے تجارت کا آغاز 2008 میں ہوا تھا۔ تب سے اب تک یہ کئی مرتبہ تنازعات کا شکار ہو چکی ہے۔

حالیہ تنازعہ 17 جنوری جمعے کے روز ہوا جب پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے 49 ٹرک تجارتی سامان لے کر بارمولہ گئے اور وہاں کی پولیس نے ایک ٹرک میں بھاری مقدار میں منشیات کی موجودگی کا الزام عائد کیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تجارتی معاملات کے نگران کے نگران اور بارہ مولہ کے ڈپٹی کمشنر خواجہ غلام احمد نے بتایا کہ’مظفرآباد سے آنے والے 49 ٹرکوں میں سے ایک کے سامان سے کچھ مشکوک اشیا برآمد ہوئی تھیں جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ جبکہ باقی 48 ٹرکوں پر معمول کا تجارتی سامان تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ تحویل میں لیے گئے ٹرک کے سامان میں براؤن شوگر کے نام سے پہچانے جانے والی منشیات بھاری مقدار میں برآمد ہوئی۔ واضح رہے کہ براؤن شوگر ہیروئن کی ناخالص قسم کو کہتے ہیں۔

ان کا دعوی تھا کہ ٹرک میں ایک ایک کلو گرام کے 114 پیکٹ ملے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشیمر میں تجارت اور سفر سے متعلق ادارے کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر اسماعیل نے براؤن شوگر کہلائے جانے والے اس منشیات کی تجارتی سامان میں موجودگی کے امکان سے نہ صرف انکار کیا بلکہ بھارت پر اس معاملے کو ضرورت سے اچھالنے کا الزام عائد کیا۔

ان کا کہنا تھا: ’اگر وہ لوگ اپنے موقف میں سچے ہوتے تو ہمیں شواہد بھجواتے۔ لیکن اس کے بجائے انھوں نے اس معاملے کو میڈیا میں اچھالا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ان سے کہا ہے کہ اگر ایسا کچھ ہے بھی تو ہمیں اپنی تحقیقاتی رپورٹ دیں تاکہ ہم یہاں جامع تحقیقات کر سکیں۔‘

114 کلو گرام کی بڑی مقدار کے بارے میں بریگیڈیئر اسماعیل کا مزید کہنا ہے کہ اوّل تو سخت چھان بین کے عمل کی موجودگی میں ایسا ممکن نہیں تاہم اگر ایسا ہوا بھی ہے تو ڈرائیور کو حراست میں لینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ تجارتی سامان سے متعلقہ شخص نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ڈرائیور کا کام محض سامان لے جانا ہے ، وہ کسی اور شخص کا سامان لے کر جاتا ہے۔ اسے سزا دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اسے واپس بھیجا جائے تاکہ اس سے یہاں پوچھ گچھ کر کے اصل مجرمان تک پہچا جا سکے۔‘

بارہ مولہ کے ڈپٹی کمشنر اور خواجہ غلام احمد نے یقین دلایا ہے کہ وہ ایل او سی کے دوسری جانب معلومات کے تبادلے کے حق میں ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بریگیڈیئر اسماعیل کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ بھارت کی جانب سے الزامات عائد کر کے تجارت کا عمل متاثر کیا گیا ہو۔ اس سے پہلے بھی منشیات سمیت جعلی کرنسی اور پاکستانی مصنوعات کی بھیجے جانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے تاجروں میں بے یقینی اور خوف کا احساس پیدا ہو رہا ہے جس سے تجارت کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔

چونکہ معاملہ اب پاکستان اور بھارت کی حکومتوں اور دفترِ خارجہ کے پاس ہے تو جب پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم سے پوچھا گیا کہ اس معاملے پر بھارت سے کیا بات ہو رہی ہے تو ان کا محض اتنا کہنا تھا کہ بات ہو رہی ہے، البتہ انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ معاملہ کہاں پہنچا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کے تاجروں کے 49 ٹرک جبکہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے 27 ٹرک اب دونوں جانب کی حکام کی تحویل میں ہیں۔

چونکہ معاہدے کے تحت تمام ٹرک ایک ساتھ ایل او سی عبور کرتے ہیں اس لیے ایک ٹرک کی وجہ سے پاکستان کے 48 ٹرک بھارتی حکام کے تحویل میں ہیں جبکہ اسے وجہ سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے 27 ٹرک اس جانب سے واپس نہیں جا سکتے۔

کشمیر کے دونوں حصوں میں پھلوں، زعفران ، میوؤں اور کشمیری شال دو شالوں اور کپڑے کی تجارت کی جاتی ہے۔

تجارت کی بندش کی وجہ سے سری نگر مظفرآباد بس سروس بھی معطل ہے۔

اسی بارے میں