قومی اسمبلی کی داخلہ کمیٹی نے تحفظ پاکستان آرڈیننس منظور کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے داخلہ امور نے بعض سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے کمیشن کی تحفظات کے باوجود متنازع تحفظ پاکستان آرڈیننس بل کی منظوری دے دی جس کے بعد اسے صدارتی حکم کے تحت نافذ کر دیا گیا ہے۔

حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی قانون سازی لازمی ہو جاتی ہے۔ تاہم بعض ماہرین کو خدشہ ہے کہ پہلے سے بے لاگام خفیہ اداروں اور پولیس کے اختیارات میں اضافے سے ان کے ہاتہوں سرزد ہونے والے انسانی خقوق کی پامالی کے واقعات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

نواز حکومت نے انسداد دہشت گردی سے متعلق قوانین کو سخت کرنے کی کوشش میں قومی اسمبلی میں تین ترمیمی آرڈیننس پیش کیے تھے جن میں سے ایک متنازع تحفظ پاکستان آرڈیننس بل ہے۔

گذ شتہ روز حزب اختلاف کی جانب سے اعتراضات کے باوجود داخلہ امور کی پارلیمانی کمیٹی نے چیرمین رانا شمیم احمد کی سربراہی میں اس بل کی منظوری دے دی اور اسے بھاری اکثریت سے پاس کر لیا۔

آرڈیننس کی متنازع شقوں میں فوجی اور دیگر سیکیورٹی فورسز بشمول پولیس کو یہ اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ مستند معلومات یا شک کی بنیاد پر بغیر وارنٹ کے کسی بھی اس شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں مبتلا ہو۔

جب کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عبداللہ سے بی بی سی نے پوچھا کہ مستند معلومات کو بل میں مبہم کیوں چھوڑا گیا ہے تو انھوں نے کہا ’ ملک میں دہشت گردوں کے حملوں کی تعداد بڑہتی جا ری ہے اوراس وقت ملک کے حالات غیر معمولی ہیں اس لیے غیر معمولی قوانین کی ضرورت ہے‘۔

کمیٹی کے اراکین نے اس بل سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ بل سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

متحدہ قومی مومینٹ کے رکن کمیٹی ندیم گبول نے کہا ’مسلم لیگ جلد ہی حکومت سے باہر ہوگی اور پھر اسی کے خلاف اس قانون کا غلط استعمال کیا جائے گا‘۔

بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی اس بل کے حق میں ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اراکین پارلیمان یہ شق شامل کر سکتے ہیں کہ تحفظ پاکستان آرڈینس ملک کی کسی سیاسی جماعت کے رہنما کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اور اگر کسی کے خلاف کارروائی مقصود ہو تو ایسی صورت میں سپیکر اسمبلی سے اجازت لی جائے گی تاہم کارروائی کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہو گا۔

تحفظ پاکستان آرڈینس بل میں زیرِحراست شخص کو پہلے بیس دن مگر حزب اختلاف کے مطالبے کے بعد اب چالیس دن کے اندد اندر یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ سپریم کورٹ میں اپنی حراست کے خلاف اپیل دائر کرے۔

تاہم حزب اختلاف کے اس مطالبے کو رد کر دیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اعلی عدالت کے علاوہ ہائی کورٹ اور نجلی سطح کی عدالتوں کو بھی اختیار دیا جائے کہ وہ اس سے متعلق درخواستیں سنیں۔

حزب اختلاف کے مطابق درخواست گزاروں کے پاس ضروری نہیں کہ اتنے وسائل ہوں کہ وہ سپریم کورٹ میں مقدمہ چلانے کے اخراجات اٹھا سکیں۔

بل کے مطابق شک کی بنیاد پر فورسز کی جانب سے کسی بھی جگہ چھاپے مارے جا سکتے ہیں۔ کسی بھی شخص کو 90 دنوں تک عدالت میں پیش کیے بغیر حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

اس آرڈیننس میں فورسز کے اہلکاروں کی جانب سے غلطی سررزد ہونے پر کسی قسم کی جوابدہی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی غیر قانونی گرفتاریوں سے متعلق متعدد مقدمات لڑنے والے لیفٹینٹ کرنل (ر) انعام اللہ رحیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت یہ آرڈیننس اس لیے لانا چاہتی ہے تاکہ فوج اور دیگر سول اداروں کی جانب سے سرزد ہونے والی غیر قانونی حراستوں کو قانونی آڑ مہیا کی جا سکے۔

انسانی حقوق کے کمیشن نے بل کی منظوری سے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قوانین میں یہ ترمیم نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ متوازی نظامِ انصاف متعارف کرانے کے مترادف ہے۔ کمشن اپنا جامع ردِعمل جمعرات جو جاری کرے گا۔

بعض ماہر ین متفق ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرح یہاں بھی سخت قوانین ہونے چاہییں مگر ان کے بقول ان ملکوں میں اس طرح کے قوانین کو سیاسی مقاصد کے لیے استمعال نہیں کیا جاتا جبکہ پاکستان میں سیاستدانوں کے خلاف قانون کے غلط استمعال سے تاریخ بھری ہے۔

دہشت گردی کے بڑھتے ہوتے واقعات کے پیشِ نظر قوانین میں اس ترمیم پر قانونی ماہرین کی رائے تاحال منقسم ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق قوانین میں اس طرح کی ترمیم تب ہی کارآمد ثابت ہو گی جب متعلقہ اہلکاروں کو اس کے استعمال سے متعلق مکمل تربیت دی جائے گی۔

اسی بارے میں