تحفظِ پاکستان آرڈیننس کا جائزہ لیں گے: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عدالت کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کے مسودے کو دیکھنے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے پیش کردہ تحفظِ پاکستان آرڈیننس کا جائزہ لے گی اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہونے کی صورت میں اس سے متعلق فیصلہ بھی دے سکتی ہے۔

یہ بات عدالت میں جبری گمشدہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس میں سامنے آئی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مالاکنڈ ایجنسی میں واقع حراستی مرکز سے لاپتہ ہونے والے 35 افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل سلمان بٹ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے جبری گمشدگیاں روکنے کے لیے ایک نیا قانون بنایا ہے جس پر جلد ہی عمل درآمد شروع کردیا جائے گا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے ایسا کوئی نیا قانون موجود نہیں ہے اور عدالت ان افراد سے متعلق اُنھی قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ دے گی جو اس وقت ملک میں رائج ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت جو حالات ہیں وہ قانون کی عمل داری کو یقینی نہ بنانے کا نتیجہ ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس نئے قانون سے ملک میں جبری گمشدگیوں اور شدت پسندی کے واقعات میں نمایاں کمی آنے کا امکان ہے، اس کے علاوہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلوانے میں مدد بھی ملے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ حراستی مرکز سے لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے مجاز حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور وفاقی حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ نئے قانون کی کاپی عدالت میں جمع نہیں کروائی گئی جس کے بعد عدالت میں اس آرڈیننس کی کاپی جمع کروا دی گئی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس مسودے کو دیکھنے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ نیا آرڈیننس قانون کے مطابق ہے یا نہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان آرڈیننس میں تین ترامیم کی گئی ہیں اور راتوں رات یہ آرڈیننس تیار کیا گیا ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھاکہ ایک صدارتی آرڈیننس کو پیش کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی جبکہ اس کا مسودہ جولائی میں تیار کیا گیا تھا۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حراستی مرکز سے لاپتہ ہونے والے افراد کا معاملہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کا خیال رکھےکہ وہ کہاں ہیں اور اگر اُنھیں جبری طور پر گمشدہ کیا گیا ہے تو اُن کے خلاف کون سے مقدمات تھے۔

اس مقدمے کی سماعت 27 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں