طالبان سے مذاکرات: نواز شریف کی خاموشی پر سمیع الحق کی علیحدگی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میں ان اندوہناک حالات میں خود کو اس خونی المیے سے الگ تھلگ کرنا چاہتا ہوں: مولانا سمیع الحق

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی طرف سے مکمل خاموشی کی شکایت کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے طالبان سے مجوزہ مذاکراتی عمل سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

دوسری طرف جمعیتِ علمائے اسلام کے دوسرے دھڑے فضل الرحمان گروپ کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس سلسلے میں ان سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

مولانا سمیع الحق نے وزیر اعظم نواز شریف کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں ایک طرف وزیر اعظم کی طرف سے جواب نہ دینے کی شکایت کی گئی ہے تو دوسری طرف حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ فوجی آپریشن اور طاقت کے استعمال کے نتائج پورے ملک کے لیے تباہ کن اور بھیانک ہوں گے۔

وزیر اعظم نواز شریف کے نام اس کھلے خط کی کاپیاں تمام ذرائع ابلاغ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ اس میں مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ ان کی طرف سے مسلسل رابطہ کرنے اور پیغامات چھوڑنے کے باوجود نواز شریف کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی خط کا جواب دیا گیا ہے۔

انھوں نے اس خط میں وہ تاریخیں بھی دیں جن تاریخوں پر وزیر اعظم سے فون پر رابطہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

دوسری طرف جمعیتِ علمائے اسلام کے ترجمان جان اچکزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے حکومت کو طالبان سے مذاکرات کی تجویز دی تھی تاہم وزیرِاعظم کی جانب سے ابھی تک مولانا فضل الرحمان سے رابطہ نہیں کیا گیا۔

خط کے علاوہ ایک بیان میں سمیع الحق نے کہا کہ انھوں نے طرفین سے جنگ بندی کی اپیل کی تھی لیکن کل اچانک شمالی وزیرستان اور تیراہ اور دیگر قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی شروع کر دی گئی۔

ان کا کہنا ہے: ’میں ان اندوہناک حالات میں خود کو اس خونی المیے سے الگ تھلگ کرنا چاہتا ہوں، ملک وملت کی خاطر اخلاص سے خطرات مول لیے مگر افسوس، کوئی سنجیدگی اور فکر مندی نظر نہیں آئی۔‘

مولانا کے خط میں بنوں چھاؤنی اور راولپنڈی میں حملوں کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں موجودہ حکومت بظاہر مجبور اور بے بس لگ رہی ہے جس کے اشارے، ان کے بقول وزیر اعظم نے ان سے ملاقات میں بھی دیے۔ انھوں نے مزید لکھا: ’مگر پھر بھی ہم دونوں نے اس راستے میں ایک قدم آگے بڑھنے کو بھی غنیمت سمجھا کہ مذاکرات کے بند دروازے کیسے کھل سکتے ہیں۔‘

مولانا سمیع الحق کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے یکم جنوری کو وزیراعظم سے ملاقات کے بعد ہی مذاکرات کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں اور دو جنوری کو انھیں طالبان کی جانب سے حوصلہ افزا جواب بھی ملا تھا، لیکن وزیراعظم کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔

سمیع الحق نے لکھا: ’میں نے آپ (وزیر اعظم) سے ملاقات کے دو دن بعد ہی تحریک طالبان پاکستان کے متعلقہ اہم افراد سے رابطے کیے، انھوں نے مذاکرات کے سلسلے میرے اور آپ کے اعلانات اور کوششوں کو بے حد سراہا اور کہا کہ ہم سنجیدہ، مستحکم، پائیدار، بامعنی اور مثبت مذاکرات کے حامی ہیں۔ پہلے بھی کبھی ہم نے انکار نہیں کیا لیکن ہمیشہ ہمیں موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔ اور مذاکرات سبوتاژ کرانے والوں کا کسی نے سراغ نہ لگایا۔ اب ہمیں باہمی مشاورت کرنے کا موقع دیا جائے۔‘

مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسی روز وزیراعظم کو آگاہ کر دیا تھا تاہم انھوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی، جس کے بعد انھوں نے وزیراعظم کو خط ارسال کیا۔

’افسوس کہ بار بار رابطوں کے باوجود مکمل خاموشی طاری رہی۔ اس لیے میں نے 15 جنوری کو ایک مفصل مکتوب کے ذریعے وزیراعظم کی توجہ مبذول کرانی چاہی۔‘

مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے قبل وزیراعظم نے انھیں پیغام بھجوایا تھا کہ دو افراد کو ان سے رابطہ کرنے پر مامور کیا گیا ہے، لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

اسی بارے میں