مذہبی رہنما کی ہلاکت: کراچی میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ آج گاڑیاں سڑکوں پر نہیں لائی جائیں گی

کراچی میں جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے رہنما مفتی عثمان یار سمیت تین افراد کی ہلاکت کے خلاف اہل سنت علما ایکشن کمیٹی کی اپیل پر جمعے کو شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔

جمعیت علمائے اسلام، اہل سنت و الجماعت، مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت اور دیگر جماعتوں پر مشتمل علما ایکشن کمیٹی نے جے یو آئی سمیع الحق گروپ کے صوبائی رہنما مفتی عثمان یار اور دیگر علما کے قتل کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

مفتی عثمان یار کو گذشتہ ہفتے شاہراہ فیصل پر دو دیگر ساتھیوں سمیت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا تاہم پولیس ملزمان کا پتہ لگانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

ہڑتال میں شریک جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

اہل سنت علما ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال کی جماعت اسلامی، مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے پاکستان اور دیگر مذہبی جماعتوں نے حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ایکشن کمیٹی نے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا کاروبار بند رکھ کر یکجہتی کا اظہار کریں۔

دوسری جانب کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ آج گاڑیاں سڑکوں پر نہیں لائی جائیں گی اور اسی طرح پرائیوٹ سکولوں کے مالکان کی تنظیم نے بھی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کراچی کی جامعات نے امتحانات ملتوی کردیے ہیں۔

یاد رہے کہ مستونگ واقعے کے خلاف بھی شہر میں سات مقامات پر دھرنے جاری رہے، جس کے باعث شہر کا کاروبار زندگی مفلوج ہوگیا۔

کوئٹہ میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کی لواحقین سے ملاقات اور یقین دہانی کے بعد دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد ایم اے جناح روڈ، شاہراہ فیصل، نیشنل ہائی وے اور دیگر سڑکیں رات کو کھل گئی تھیں۔

اسی بارے میں