ایک سانولی رات کی کہانی

آج کی رات بھی وہی سب کو ہنسا رہا ہے۔ آج کی رات بھی اس کی آواز اپنی حدوں سے آگے ہے۔ آج کی رات بھی مرکزِ نگاہ وہی ہے۔

ہم سب خوفزدہ لوگوں کے درمیان بس وہی ایک نڈر ہے۔

حنیف، خالد احمد، وسعت، نازش بروہی، اویس توحید، حسن زیدی اور بہت سے پرستاری نگاہوں والے لڑکے لڑکیوں کے درمیان عمر کے فاصلوں سے بے نیاز ہر ایک سے مخاطب سب کو الگ الگ کمپنی دے رہا ہے۔

کیمو تھراپی اور ریڈی ایشن نے جیسے ایک تیزدھار رندہ لگا کر اس کے رویوں کو اور بھی ملائم کردیا ہے۔ ایسا آدمی جو زندگی کا بدصورت چہرہ دیکھ لینے اور اسے اندر سے جان لینے کے بعد بھی بےزار ہونے کی بجائے زندگی کو اور اپنے قریب لگا لے۔

مگر میں آج رات یہ سب کچھ کیوں لکھ رہا ہوں؟ شاید اندر کا کوئی خوف یہ سب لکھوا رہا ہے ۔۔۔

زندگی سے اکیلے لڑنے کا خوف۔۔۔ ایک ہیرو کے گم ہو جانے کا خوف۔

سانول کے امریکہ روانہ ہونے سے پہلےکی یہ شام جانے کب شروع ہوئی، کب درمیان آیا اور جانے کب کہاں اور کیوں رک گئی ۔۔۔ ہاں میں اس شام کو شاید نامکمل چھوڑ آیا ہوں۔

اس شام کے روبرو خالد احمد بانسری بجا رہے ہیں، بلال گٹار پر ہے اور ہنستے سانول کی جھومتی انگلیاں آج طبلے پہ تھرک رہی ہیں۔

پھر طبلہ بجاتے بجاتے وہ گانے بھی لگ گیا۔ شاید آج کی شام اس نے مکمل پرفارمر بننے کا تہیہ کر لیا ہے۔

’تو جناب یہ تو ثابت ہوگیا کہ یہ بیماری اور کیمو تھراپی بھی آپ کی آواز کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔۔۔ تو اب آپ کی بہانے بازی نہیں چلے گی کہ امریکہ میں ریاض نہیں کر سکوں گا۔‘ خالد احمد کی بھاری آواز میں جانے یہ حوصلہ سانول کے لیے ہے کہ ان کے اپنے لیے۔

Image caption ہم سب خوفزدہ لوگوں کے درمیان بس وہی ایک نڈر ہے

وسعت اس بیچ بہت کم بولا ۔

کتنے دنوں کے لیے جا رہے ہو؟

(جیسے وہ دونوں اب بھی ساتھ کام کر رہے ہوں اور سانول نے تین ماہ امریکہ میں تعطیلات گزار کر واپس آنا ہے)۔

اوہ اچھا ۔۔۔ پھر تو ٹھیک ہے۔۔۔

( جیسے بس اتنی سی تو بات ہے۔۔ جاؤ گے آجاؤگے)

اور حنیف سانول کو پرانے پنجابی گانے یاد دلا رہا ہے اور خود بھی آواز میں آواز ملا رہا ہے۔

جب سے حنیف نے سانول کی بیماری کا سنا ہے، میں اسے گھبرا کر دوستوں سے لڑتے دیکھ رہا ہوں۔

ان دنوں وہ مصدق کے آس پاس رہنے کی پہلے سے زیادہ کوشش کرتا رہتا ہے جیسے کسی بھی اشارے کے انتظار میں تیار کھڑا ہو۔

دونوں کے بیچ عجب تعلق ہے ۔ جیسے گاؤں کے لڑکوں میں۔ بہت یاری بھی اور سخت مقابلہ بھی۔ مگر دونوں میں سے کوئی مان کے بھی نہیں دیتا۔

حنیف اینڈ سانول ایک ایسی کمپنی ہے جس میں بہت سے پپو، بلو، بنٹی، جاجو، فجی، مجی، جیلا، مولا آتے جاتے رہتے ہیں مگر کمپنی چلتی رہتی ہے۔

دونوں گا تے چلے جا رہے ہیں ۔ جیسے دو لڑکے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گاؤں کی پگڈنڈی پر ننگے پاؤں گھوم رہے ہوں۔

اور گھومتے گھومتے شام سر پہ آگئی ہو۔

اور یہ حسن زیدی کی آنکھوں میں سگریٹ کے دھوئیں کی نمی اور سرخی ہے کہ سانول کو سامنے ہونے کے باوجود مس کرنے کی؟ جبکہ سانول تو سب کو ہنسائے جا رہا ہے۔

Image caption شاید آج کی شام اس نے مکمل پرفارمر بننے کا تہیہ کرلیا ہے

لگتا ہے آج کی شام کا سارا ثواب نازش اور اویس توحید نے کما لیا ہے ۔اتنی تھکی اور مصروف زندگی کی ایک شام میں کوئی اتنے بہت سے دل ملا دے۔۔ نیکی اور کسے کہتے ہیں۔

مگرشام جانے کب رات بن گئی اور رات جانے کب بھیگ گئی۔ مصدق سانول اب لڑکے لڑکیوں کے جھرمٹ میں میں گھرا ہوا ہے جو اس سے چپک کے تصویریں کھنچوا رہے ہیں۔ موبائل فونز کے فلیش جھمک رہے ہیں اور مجھے یہ منظر بہت برا لگ رہا ہے ۔ پتہ نہیں لوگ اس طرح کیوں کرتے ہیں ۔جیسے پھر کبھی ملنا ہی نہ ہو۔

سانول نے شاید مجھے پڑھ لیا ہے۔۔۔ وہ مجھے مسکرا تے ہوئے پاس آنے کا اشارہ کر رہا ہے۔ مگر میں نےمنہ پھیر لیا ہے۔ پھر وہ خود اپنی سینہ تانی چال چلتا قریب آیا اور تھپکی آمیز سرگوشی کی۔

اداس کیوں تھیندیں۔۔۔ آ ویساں۔۔۔ ٹریولاگ دی تیاری کر۔

وہ ہمیشہ کسی نئے سفری ایڈونچر کے لیے آمادہ رہتا ہے، راستے بھر گانے گاتے لطیفے سناتے وقت اور خود کو گزارتا ہے۔ جیسے دنیا بھر کو ریلیکس رکھنا بس اسی کی ذمہ داری ہو۔

بھلا مجھے کیا معلوم آج رات میں نے سانول کو کتنی بار کن انکھیوں سے دیکھا ہے۔

شاید اس محفل میں وہی ایک زندہ آدمی ہے اور باقی سب خوفزدہ خوفزدہ۔ ڈرے ڈرے سہمے سہمے۔ ہوسکتا ہے یہ میرا وہم ہو اور میں نے خود کو بچانے کے لیے اپنا یہ وہم محفل کے ہر شریک کے چہرے میں برابر برابر بانٹ دیا ہو۔

یا شاید میں اس لیے سانول کو چور نگاہوں سے دیکھ رہا ہوں کہ کہیں تو چہرے پے خوف کی لکیر دکھائی دے۔ ایسے وقت میں تو بڑوں بڑوں کا پِتہ پانی ہو جاتا ہے۔ خدا جسے وہ اپنا حریف مانے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایک دم سے اس کے غلام بن کر آہوں، سسکیوں، معافیوںت تلافیوں اور جانے کس کس روپ میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

شاید سانول کا خدا جیسے کل اس کا دوست تھا آج بھی ویسا ہی بے تکلف دوست ہو۔

21 مارچ 2013

رات تین بجے)