ہزارہ واقعے کے پیچھے دہشت گرد بچ نہیں سکتے، نثار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دہشت گردوں کوحالات خراب کرنےکی اجازت نہیں دی جائےگی، چوہدری نثار علی خان

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے ہزارہ واقعے کے پیچھے دہشت گرد بچ نہیں سکتے اور واقعہ کے ذمہ داروں کو کٹرے میں لایا جائے گا۔

کوئٹہ میں مستونگ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے زائرین کے لواحقین، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور شیعہ تنظیموں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یقین دلایا حکومت دہشت گردوں کا پیچھا کرے گی اور ہزارہ برادی کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کے مطالبات کو پورا کیا جائے گا اور بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیےحکومت تمام اقدامات اٹھائےگی۔

چوہدری نثار کے مطابق’ میں آپ کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ صوبائی اور وفاقی حکومت مل کر اس پر پیش رفت کرے گی‘۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کوحالات خراب کرنےکی اجازت نہیں دی جائےگی اور پوری قوم ہزارہ برادری کے ساتھ غم میں شریک ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گزشتہ منگل کو ایران سے آنے والے زائرین کی بس پر مستونگ کے علاقے میں بم حملے میں 25 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے

وفاقی وزیر کی یقین دہانی کے بعد کوئٹہ میں مستونگ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے زائرین کے لواحقین، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور شیعہ تنظیموں نے دو روزہ دھرنے کے خاتمے اور لاشوں کی تدفین کا اعلان کیا۔

دھرنے کے خاتمے کا اعلان جمعرات کی شب ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر عبدالخالق ہزارہ اور مجلس وحد ت المسلین کے رہنماؤں نے کیا۔

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر عبدالخالق ہزارہ نے اعلان کیا کہ جمعہ کو صبح دس بجے لاشوں کی تدفین کی جائے گی۔

اس سے پہلے وفاقی وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ، وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید اور دیگر وفاقی اور صوبائی حکام دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کے لیے کوئٹہ کے علمدار روڈ پہنچے۔

چوہدری نثار نے قندہاری امام با رگاہ میں مجلس وحد ت المسلمین، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر شیعہ تنظیموں کے رہنماؤں سے مذاکرات کیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ منگل کو ایران سے آنے والے زائرین کی بس پر مستونگ کے علاقے میں بم حملے میں 25 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک اور زخمی افراد کا تعلق ہزار ہ قبیلے سے تھا۔

اس سے قبل یکم جنوری کو کوئٹہ شہر کے مغربی بائی پاس پر اختر آباد کے علاقے میں ایسی ہی ایک بس پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں حملہ آور سمیت دو افراد ہلاک اور پولیس اہل کاروں سمیت متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے لاشوں کی تدفین سے انکار کرتے ہوئے ان کے ہمراہ دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

دھرنے کے شرکاء نے اس واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری، کوئٹہ اور مستونگ میں ٹارگیٹڈ آپریشن کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں فرقہ وارانہ شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں