’حملوں کے باوجود پولیو مہم جاری رہے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption خیبر پحتونخوا میں بڑی تعداد میں والدین اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں انسدادِ پولیو مہم کے رضا کاروں اور انھیں تحفظ فراہم کرنے والے پولیس اہل کاروں پر پے در پے حملوں کے باوجود پولیو مہم جاری رہے گی۔

انسدادِ پولیو مہم کو تحفظ فراہم کرنے کی منصوبہ بندی ہر شہر اور تحصیل کے تھانے کی سطح پر ہوتی ہے اور ان ٹیموں کے ساتھ پولیس اہل کار تعینات کیے جاتے ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ پہلے ہر ٹیم تین دن انسداد پولیو مہم میں شرکت کرتی تھی لیکن اب تین سے چار ٹیمیں ایک ہی علاقے اور ایک دن میں اس علاقے کے تمام بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلائیں گی۔

خیبر پختونخوا میں ایک دن کی مہم کے لیے زیادہ سے زیادہ سیکیورٹی اہل کار اس علاقے میں تعینات ہوں گے جب کہ ان علاقوں میں داخلی اور خارجی راستوں پر بھی سیکیورٹی اہل کار ڈیوٹی پر موجود ہوں گے۔

خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کے سربراہ ڈاکٹر امتیاز نے بی بی سی کو بتایا ’صوبے کے تمام شہروں میں یہ مہم اپنے اپنے وقت پر ضرور ہوگی ۔ پشاور کے لیے مہم کچھ وقت کے لیے روکی گئی ہے اور جلد ہی یہاں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ضلعی سطح پر سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا جاتا ہے جس کے بعد متعلقہ علاقے میں انسدادِ پولیو مہم پولیس اہل کاروں کے ساتھ شروع کی جاتی ہے اور اس کے لیے ہر ضلع اور تھانے کی صطح پر منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پشاور میں پولیو کا وائرس بڑھ رہا ہے جو کہ تشویشناک ہے اس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی ضرورت ہے ۔

ایک لیڈی ہیلتھ ورکر مسرت قاضی نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کے لیے اس مہم میں کام کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’انسدادِ پولیو مہم کے رضا کاروں کے ساتھ ساتھ پولیس اہل کاروں پر حملوں کی وجہ سے کشیدگی بڑھ گئی ہے اب مجھے گھر سے باہر نکلتے وقت خوف آتا ہے‘۔

قاضی مسرت نے بتایا کہ زرائع ابلاغ پر مہم شروع کی جائے کہ تمام والدین اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کے لیے ان کے مراکز پر لائیں جس سے صورت حال بہتر ہو سکتی ہے ۔

جب ان سے پوچھا کہ والدین اپنے گھروں پر بچوں کو قطرے نہیں پلاتے تو مراکز پر کون لائے گا تو انھوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں والدین ایسے ہیں جو اپنے بچوں کی صحت کے حوالے سے فکر مند رہتے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو ان مراکز پر ضرور لائیں گے ۔

خیبر پحتونخوا میں بڑی تعداد میں والدین اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں۔

گزشتہ سال پاکستان سے کل 72 سے زیادہ بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں زیادہ کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا سے بتایا گیا تھا۔

پشاور میں پانچ سالوں میں 45 بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی یہ وائرس موجود ہے ۔

یاد رہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پچھلے ڈیڑھ سال سے شدت پسند تنظیموں کی جانب سے پولیو مہم پر پابندی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں کوئی مہم نہیں چلائی گئی ہے۔ اس پابندی کے باعث ان مقامات سے پولیو کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

گزشتہ سال پاکستان بھر میں مجموعی طور پر91 پولیوکا شکار ہوئے جن میں سے 70 کا تعلق فاٹا اور خیبر پختونخوا سے تھا جبکہ ان میں 31 اکتیس کیسسز صرف شمالی وزیرستان سے سامنے آئے تھے۔

چند دن پہلے عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور دنیا بھر میں پولیو وائرس کا سب سے بڑا گڑھ ہے۔

عالمی اداراۂ صحت کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر الائس ڈرے نے بی بی سی کو بتایا تھا ’ہمیں شمالی و جنوبی وزیرستان میں پابندی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے تاہم پشاور پولیو وائرس کا ذخیرہ ہے جس کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں