ملک کی سکیورٹی صورت حال پر اہم اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption وزیر اعظم کو سکیورٹی کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی

پاکستان میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں جمعرات کو وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ملک کی سکیورٹی صورت حال پر غور کیا گیا اور جنرل راحیل شریف نے سکیورٹی صورت حال پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔

اس اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے مختلف قوانین پر بھی غور کیا گیا۔

اس اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات پرویز رشید، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر اعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل ظہیر الاسلام، چیف آف جنرل سٹاف لیفٹینٹ جنرل اشفاق ندیم، ڈی جی ملٹری آپریشن میجرجنرل عامر ریاض اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل سرفراز ستار شریک تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم میاں نواز شریف نے ملک کی داخلی سلامتی کو ’تشویشناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ یہ اجلاس اس وقت ہوا ہے جب پاکستانی فوج پر دو حملے ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں بمباری کی۔

عسکری ذرائع نے میر علی میں اس کارروائی کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ اس میں تین جرمن اور 36 ازبک جنگجوؤں سمیت چالیس شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاک ہونے والے کمانڈروں میں ولی محمد، عصمت اللہ شاہین بھٹنی، نور بادشاہ اور مولوی فرہاد ازبک سمیت کئی اہم طالبان شدت پسند شامل ہیں۔ تاہم ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یاد رہے کہ بیس جنوری کو اسلام آباد سے ملحق شہر راولپنڈی کے آر اے بازار میں دھماکہ ہوا تھا جس میں خودکش حملہ آور سمیت 13 افراد ہلاک اور 28 افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک مقامی سکول کے بچے بھی شامل تھے۔

اس علاقے میں پاکستان کی چند حساس تنصیبات انتہائی قریب ہی واقع ہیں جن میں برّی فوج کا صدر دفتر جی ایچ کیو شامل ہے۔

اس سے ایک روز قبل ہی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں فوجی چھاؤنی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کے قریب دھماکہ ہوا جس میں 20 اہل کار ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

ان دونوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں