شکیل آفریدی کو رہا نہیں کیا جائے گا: دفترِ خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی شدت پسندوں کے ساتھ روابط اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے تعلقات اور اطلاعات فراہم کرنے کے الزامات پر 33 سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کی درخواست پر رہا نہیں کیا جائے گا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ رواں ماہ کی 27 اور 28 تاریخ کو واشنگٹن میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سٹریٹیجک مذاکرات میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ زیر بحث آئے۔

حکومتی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی امداد ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے منسلک نہیں ہے۔

اس سے قبل امریکہ نے خبردار کیا تھا کہ جب تک امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کی وزیر خارجہ جان کیری تصدیق نہیں کر لیتے، تب تک ہو سكتا ہے کہ امریکہ پاکستان کو ملنے والی تین کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی امداد روک لے۔

پاکستان نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دونوں ملکوں کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کی روح کے منافی ہے۔

امریکی کانگریس نے حال ہی میں امریکی اداروں کو 2014 میں مختص ہونے والے بجٹ کی منظوری دی ہے جس کی صدر اوباما نے 17 جنوری کو توثیق کر کے قانونی شکل دے دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پشاور کی جیل میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ابتدائی طور پر دو مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے 20 دن بعد، ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا

اس قانون کے تحت امریکی وزارتِ دفاع اور امریکی وزارتِ خارجہ بشمول پاکستان بیرونی ممالک کو دی جانے والی امداد کا تعین کریں گی۔

اس قانون کی ایک شق میں تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی تین کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قید میں رکھنے کی وجہ سے روک لیا جائے۔

اس مسودے میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پر اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد کرنے سے متعلق جو بھی الزامات ہیں وہ واپس لیے جائیں۔

اس کے ردِ عمل میں پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پاکستانی شہری ہیں اور پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں قید ہیں اور ان کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت پشاور کی جیل میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ابتدائی طور پر دو مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے 20 دن بعد، ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

تاہم بعد ازاں خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے انھیں شدت پسندوں کے ساتھ روابط اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے تعلقات اور اطلاعات فراہم کرنے کے الزامات پر 33 سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔‪

دفتر خارجہ کے بیان میں پاکستان نے کہا کہ دونوں ملک باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی مستحکم تعلقات کی راہ پر گامزن ہیں۔ ’پاکستان کو امید ہے کہ قربت بڑھانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔‘

بریفنگ کے دوران مظفرآباد سے سری نگر اور پونچھ سے روالا کوٹ جانے والی بس سروس کی معطلی سے متعلق سوال کے جواب میں حکومتی ترجمان نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کسی ٹرک ڈرائیور کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ صرف پوچھ گچھ کی گئی تھی جبکہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 49 ٹرک ڈرائیوروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان پرامن تجارت کا سلسلہ شروع ہو۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی کے بعد پاکستان نے بھی بھارتی قونصلر کو طلب کیا ہے تاکہ معاملات آگے بڑھ سکیں۔

اسی بارے میں