اینجیوگرافی کہاں سے کرائیں، فیصلہ مشرف کریں گے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرویز مشرف کو اینجیوگرافی کی فوری ضرورت ہے اور اگر اس سے متعلق جلد کوئی فیصلہ نہ کیا گیا اور وہ اسی طرح دباؤ میں رہے تو اُنھیں دل کا جان لیوا دورہ پڑ سکتا ہے: میڈیکل رپورٹ

راولپنڈی میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے ادارے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے میڈیکل بورڈ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی صحت سے متعلق رپورٹ ان پر جاری غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں جمع کروا دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی بیماری پیچیدہ اور غیر متوقع ہے اور انھیں مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو اینجیوگرافی کی فوری ضرورت ہے اور اگر اس سے متعلق جلد کوئی فیصلہ نہ کیا گیا اور وہ اسی طرح دباؤ میں رہے تو اُنھیں دل کا جان لیوا دورہ پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مریض پرویز مشرف کی خواہش ہے کہ اینجیوگرافی کروائیں لیکن اس سلسلے میں وہ طبی ادارے کے انتخاب کا اختیار محفوظ رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سابق فوجی صدر نے کہا ہے کہ اگرچہ ملک میں اینجیوگرافی کی خاطرخواہ طبی سہولیات موجود ہیں، تاہم اس عمل کے دوران کسی پیچیدگی کی صورت میں درکار جدید ترین آلات کی کمی ہے۔

اس رپورٹ میں عدالت سے اس بات کی سفارش نہیں کی کہ پرویز مشرف کو علاج کے لیے بیرون ملک بھجوایا جائے اور نہ ہی کہا گیا ہے کہ اس بیماری کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔

اے ایف آئی سی کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کی جانب سے عدالت میں اس سے قبل پیش کی جانے والی رپورٹ میں بھی پرویز مشرف کی اینجیوگرافی کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔

اس مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اگر ملزم پرویز مشرف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تو پھر ہر ملزم اور مجرم تقاضا کرے گا کہ اُسے علاج کے لیے بیرون ملک بھجوایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اگر ملزم پرویز مشرف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تو پھر ہر ملزم اور مجرم یہ تقاضا کرے گا کہ اُسے علاج کے لیے بیرون ملک بھجوایا جائے: چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ

یاد رہے کہ غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے اے ایف آئی سی کے ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ سے ملزم پرویز مشرف کی صحت سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کو کہا تھا۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت شروع کی تو اے ایف آئی سی کی جانب سے پرویز مشرف کی صحت سے متعلق سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، تاہم بعدازاں اس رپورٹ کی کاپی وکیل استغاثہ اور ملزم کے وکیل کو دے دی گئی۔

اس مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے میڈیکل بورڈ کی اس رپورٹ پر اعتراضات اُٹھاتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی صدر اس مقدمے میں عدالت کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جس شخص نے نو سال تک فوج کی کمانڈ کی، آج وہی شخص اس ادارے کے زیرِ انتظام چلنے والے ہسپتال میں ڈاکٹروں پر عدم اعتماد کر رہا ہے۔

اس دوران ملزم پرویز مشرف اور چیف پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت دونوں اطراف کی اضطرابی کیفیت محسوس کر سکتی ہے۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اس میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ملک کے دوسرے ہسپتالوں کے ڈاکٹروں سے بھی رائے لی جائے کہ کیا اس بیماری کا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا۔ اُنھوں نے تجویز دی کہ شفا انٹرنیشنل، پمز، پولی کلینک اور دیگر ہسپتالوں کے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا جائے جو اس رپورٹ کا جائزہ لے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اس رپورٹ پر تحریری شکل میں اعتراضات اُٹھانا چاہتے ہیں جس کی عدالت نے اجازت دے دی اور کہا کہ وہ 27 جنوری تک اعتراضات جمع کروا سکتے ہیں۔

ملزم پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل فیصل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ آئین کے تحت مریض کو کسی بھی من پسند ڈاکٹر سے علاج کروانے کا اختیار ہے اور مریض کے اس حق کو ختم کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اس مقدمے کی سماعت 29 جنوری تک کے لیے ملتوی کرد ی گئی۔ یاد رہے کہ پرویز مشرف کے وکلا نے 31جولائی سنہ 2009 کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے 14 رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو 28 جنوری کو اس کی سماعت کرے گا۔

نظرثانی کی اس درخواست میں سپریم کورٹ سے پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو کام سے روکنے سے متعلق بھی استدعا کی گئی ہے۔

اسی بارے میں