جنرل مشرف کے حامی وکلا کی عدالت میں دھمکیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption پہلے تو چند روز قبل پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری صحافیوں سے اُلجھ پڑے

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ اور صفائی کے وکلا کے مابین کچھاؤ کچھ زیادہ ہی دکھائی دیا۔

جمعہ کے روز مقدمے کی سماعت کے دوران چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے پرویز مشرف کی صحت سے متعلق دلائل دیتے ہوئے جب یہ کہا کہ حیرت ہے کہ ایک سابق آرمی چیف کو خود اپنے ہی ادارے پر اعتماد نہیں ہے جہاں پر وہ زیر علاج ہیں۔

اُس پر سابق فوجی صدر کے وکلا ٹیم میں شامل احمد رضا قصوری کے علاوہ ایک اور وکیل اختر شاہ نہ صرف ان پر آوازیں کسیں بلکہ ایک موقع پر اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوکر بلند آواز میں بولنا بھی شروع کر دیا۔

اس کے علاوہ پرویز مشرف کی وکلا کی حمایت میں آنے والے ایک وکیل اختر شاہ نے کہا کہ پاکستان اور فوج کے خلاف باتیں کرنے والوں کو ’چیر‘ کر رکھ دوں گا۔

چیف پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اُنھیں پرویز مشرف کے وکلا کے علاوہ دوسرے وکلا کی طرف سے بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

اکرم شیخ نے کہا کہ اختر شاہ ملزم پرویز مشرف کے وکلا پینل میں بھی شامل نہیں ہیں۔

اکرم شیخ نے پرویز مشرف کی وکلا ٹیم کے سربراہ شریف الدین پیرزادہ سے کہا کہ اُن کی ٹیم میں شامل کچھ وکلا نے حملہ کرنے کی کوشش کی ہے جس کے بعد وہ سیکیورٹی اہلکاروں کو بُلانے پر مجبور ہیں۔

اس پر شریف الدین پیرزادہ کا کہنا تھا کہ اُن کا جو جی چاہتا ہے وہ کرلیں تاہم اکرم شیخ نے سیکیورٹی اہلکاروں کو نہیں بُلایا۔

اس سے پہلے بھی اکرم شیخ عدالت کو بتا چکے ہیں کہ اُنھیں اس مقدمے میں پیش ہونے پر نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے دونوں اطراف کے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کو عدالت ہی رہنے دیں اکھاڑہ بنانے کی کوشش نہ کریں۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت اس مقدمے میں دونوں اطراف کے وکلاء کے تذبذب کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے۔

سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے میں پیش ہونے والے وکلا کچھ زیادہ ہی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

پہلے تو چند روز قبل پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری صحافیوں سے اُلجھ پڑے اور اُنھیں بھارتی ایجنٹ قرار دینے کے علاوہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دی اور اُس کے بعد پراسیکیوٹرز کے ساتھ بھی اُلجھ پڑے ہیں۔

اسی بارے میں