سندھ کے مختلف شہروں میں ہڑتال اور دھماکے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس حکام کو شبہ ہے کہ ان کریکر دھماکوں کا تعلق قوم پرست جماعت کی ہڑتال سے ہے

پاکستان میں صوبہ سندھ کے مختلف شہروں میں کریکر کے دھماکے کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

دوسری جانب قوم پرست جماعت جیے سندھ متحدہ محاذ نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے سندھ کی تقسیم کے بیان کے خلاف پیر کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعے کو سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں چار سے زائد مقامات پر موٹر سائیکل سوار افراد نے کریکر پھینکے۔ یاد رہے کہ یہ دھماکے خاص طور پر تجارتی مراکز کے قریب کیے گئے ہیں۔

حیدرآباد کے علاوہ کراچی، نوابشاہ، نوشہرو فیروز، مہراب پور، ہالہ، جامشورو میں انڈس ہائی وے اور دادو، کوٹری میں نیشنل ہائی وے پر متعدد دھماکے کیے گئے ہیں۔

ایس ایس پی حیدرآباد عرفان بہادر نے چھ تھانوں کے ایس ایچ او کو غفلت برتنے کے الزام میں معطل کر دیا ہے۔

پولیس حکام کو شبہ ہے کہ ان کریکر دھماکوں کا تعلق قوم پرست جماعت کی ہڑتال سے ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی ہڑتال سے پہلے اس نوعیت کے دھماکے ہوتے رہے ہیں۔

جیے سندھ متحدہ محاذ کے سیکریٹری جنرل سجاد شر نے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سنیچر کے روز اپنا کاروبار بند رکھ کر یکہجتی کا اظہار کریں اور سندھ کے خلاف سازشوں کا ناکام بنائیں۔

جیے سندھ متحدہ محاذ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سمیت کوئی بھی سندھ کی وحدانیت سے بالاتر نہیں ہے۔

کچھ عناصر سندھ میں سندھی اور اردو بولنے والے سندھیوں میں ذہنی تفریق پیدا کرنا چاہتی ہیں اس لیے وہ اردو بولنے والے سندھیوں کو بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان سازش کے خلاف ان کا ساتھ دیں۔

علیحدگی پسند اس تنظیم نے برطانوی حکومت کو بھی ایک خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانوی شہری الطاف حسین مسلسل اشتعال انگیز بیان بازی کر رہے ہیں لیکن برطانوی حکومت انہیں ایسا کرنے سے نہیں روک رہی جس سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ برطانوی حکومت بھی اس کا حصہ ہے ۔

’ہم برطانیہ سمیت تمام عالمی قوتوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی کسی بھی سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اس کی مذمت اور مزاحمت کی جائےگی۔‘

یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے حیدرآباد میں کارکنوں سے خطاب میں کہا تھا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کو اردو بولنے والے سندھی قبول نہیں ہیں تو انہیں الگ صوبے بناکر دیا جائے ان کے اس بیان پر سندھ میں شدید رد عمل ظاہر کیا گیا اور قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے سندھ میں ہڑتال کا اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاد رہے کہ ماضی میں بھی ہڑتال سے پہلے اس نوعیت کے دھماکے ہوتے رہے ہیں

سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم اعلانیہ ہڑتال کی شب ایم کیو ایم کے ایک وفد کے ساتھ ایاز لطیف کے گھر پہنچ گئے جس کے بعد ایاز پلیجو نے ہڑتال کا اعلان واپس لے لیا اور کہا کہ ایم کیو ایم کے وفد نے وضاحت کی ہے کہ الطاف حسین سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔

اس ہڑتال کے دوسرے روز ہی الطاف حسین کا یہ بیان سامنے آیا کہ کوئی مانے یا نہ مانے سندھ ون اور ٹو بن چکی ہے ان کے ان بیانات کے خلاف سندھی ادیبوں اور شعرا نے کراچی میں برطانوی ہائی کمیشن کے باہر بھی دہرنا دیا تھا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ کے متنازعہ بیانات کے بعد سندھ کی قوم پرست جماعتوں میں بے چینی پائی جاتی ہے فروری کے پہلے ہفتے میں سندھ ترقی پسند پارٹی نے کراچی میں سندھ دھرتی ماں کے نام سے ریلی نکالنے اور جیے سندھ قومی محاذ نے تئیس مارچ کو فریڈم مارچ کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں