آفاق احمد کے گھر پر حملہ، چھ پولیس اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آفاق احمد نے اپنی رہائش گاہ تبدیل کردی تھی تاہم ان کے رشتے دار اور کارکن ابھی تک اسی علاقے میں موجود تھے

کراچی میں مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما آفاق احمد کے گھر کے باہر ہونے والے حملے میں میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں، جمعے کو سندھ ہائی کورٹ نے آفاق احمد کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم جاری کیا تھا۔

مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما آفاق احمد کا گھر لانڈھی 6 نمبر میں واقع ہے، جہاں آج دستی بم پھینکا گیا اور فائرنگ کی گئی۔

ایس ایس پی پیر محمد شاہ کا کہنا ہے دستی بم آفاق احمد کے گھر پر سیکیورٹی پر مامور پولیس موبائل پر گرا ہے، جس کے نتیجے میں چھ اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو جناح ہسپتل منتقل کیا گیا ہے، ہپستال کے شعبے حادثات کی انچارچ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا ہے کہ ان کے پاس چھ اہلکار مردہ حالت میں لائے گئے ہیں جن کی لاشیں مردہ خانے میں منتقل کردی گئی ہیں۔

مہاجر قومی موومنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے پہلے فائرنگ کی اس کے بعد پولیس موبائل پر دستی بم سے حملہ کیا، ترجمان کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر یہ سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔

ایس پی لانڈھی فیصل نور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر یہ حملہ پولیس پر ہی ہوا ہے بصورتِ دیگر دستی بم گھر کے اندر پھینکا جاتا پولیس موبائل پر نہیں۔

وزیر اعلی اور گورنر سندھ نے واقعے کا نوٹس لے کر رپورٹ طلب کی ہے۔

یاد رہے کہ آفاق احمد نے اپنی رہائش گاہ تبدیل کردی تھی تاہم ان کے رشتے دار اور کارکن ابھی تک اسی علاقے میں موجود تھے، واقعے کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ جاری ہے اور کاروبار بند ہوگیا ہے ۔

سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ روز ہی آفاق احمد کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم جاری کیا تھا، جس کے بعد یہ اطلاعات تھیں کہ وہ تنظیمی سلسلے میں بیرون ملک جائیں گے۔

اسی بارے میں