خضدار سے دو لاشیں برآمد، ’مزید لاشیں بھی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے قبل بھی پشین میں سے لاشیوں ملی تھیں جن کی شناخت اس لیے نہیں کی جاسکتی تھی کہ ان پر چونا پھینک دیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خصدار میں حکام کا کہنا ہے کہ دو مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جبکہ چھ سے سات مزید نامعلوم افراد کی لاشیں دفن ہیں۔

خضدار کے اعلیٰ حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ضلع خضدار کے علاقے توتک سے دو لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق جمعہ کو چرواہوں نے حکام کو اطلاع دی کہ ان کو لاشیں ملیں ہیں۔

حکام کے مطابق اہلکاروں نے ہفتے کے روز دو لاشیں اٹھائیں ہیں جو اس قابل تھیں کہ ان کو اٹھایا جا سکے۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسی جگہ پر چھ سے سات مزید لاشیں ہیں جو بری طرح مسخ شدہ ہیں۔

حکام کے مطابق جو دو لاشیں اٹھائی گئی ہیں ان کو قتل کرنے کے بعد ان پر چونا ڈال دیا گیا تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پشین میں سے لاشیوں ملی تھیں جن کی شناخت اس لیے نہیں کی جاسکتی تھی کہ ان پر چونا پھینک دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور سے حالات زیادہ خراب ہیں اور ان میں شدت اس وقت آئی جب ایک مبینہ فوجی آپریشن میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی مارے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے صوبے میں مزاحمتی تحریک جاری ہے اور پرتشدد واقعات معمول بن گئے ہیں جن میں لوگوں کا لاپتہ ہونا اور اس کے بعد ان کی لاشوں کے ملنے کے واقعات نمایاں ہیں۔

اسی بارے میں