پشاور میں پولیو مہم، اساتذہ کی مشروط شرکت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت نے رضاکاروں پر پے در پے حملوں کے باوجود مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اساتذہ نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے انسدادِ پولیو مہم میں مشروط طور پر حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

صوبے میں پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک خالد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ روز جمعہ کو انھوں نے سکیورٹی خدشات اور حکومتی وعدے پورے نہ ہونے کی وجہ سے پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ سنیچر کو کمشنر پشاور سے ملاقات میں مطالبات پورے کیے جانے کے وعدے پر انھوں نے مشروط طور پر مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

پشاور دنیا میں پولیو وائرس کا گڑھ ہے

سال 2013 پولیو مہم کے لیے مہلک رہا

ملک خالد کے مطابق آئندہ 12 ہفتے تک ہر اتوار کو ایک دن کے لیے ضلع پشاور میں انسدادِ پولیو مہم چلائی جائے گی جس میں دیگر رضاکاروں کے علاوہ نو ہزار اساتذہ حصہ لیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سے کہا ہے کہ پولیو مہم میں شرکت کرنے والے تین ہزار خواتین اساتذہ حساس علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے نہیں جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال پولیو مہم کے دوران ان کے چار ساتھی شدت پسندی کے واقعات میں ہلاک ہو گئے تھے اور انھیں معاوضہ نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ نے ہمارے سکیورٹی خدشات سننے بغیر نو ہزار اساتذہ کی ڈیوٹی لگا دی تھی۔

ملک خالد کے بقول اگر ایک ہفتے کے اندر ہمارے مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو وہ پولیو مہم کا بائیکاٹ کر دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حالیہ پولیو مہم کے دوران اگر کوئی ہلاک ہو جاتا ہے تو حکومت فوری طور پر اس کے بیٹے، بیٹی یا کسی قریبی رشتہ دار کو نوکری دے گی۔

ملک خالد کے بقول وادی سوات میں طالبان کے دور میں بڑی تعداد میں اساتذہ ہلاک ہوئے تھے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے لواحقین کو بھی ’شہدا پیکج‘ دیا جائے۔

دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخوا انسداد پولیو مہم کے لیے وزیراعلیٰ کے مانیٹرنگ سیل کے سربراہ ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاعلمی کا اظہار کیا کہ پشاور میں کوئی پولیو مہم شروع ہو رہی ہے۔

انھوں نے اساتدہ کے سکیورٹی خدشات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سب کو معلوم ہے کہ صوبے میں کیا صورتحال ہے، یہاں پر وزیر اور اعلیٰ افسران حملوں میں مارے گئے ہیں تو پولیو مہم کی سکیورٹی کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے لیکن حکومت کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ سکیورٹی کے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ صوبے میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے سربراہ نے ’صحت کا انصاف‘ پروگرام شروع کیا ہے۔

Image caption گذشتہ سال صوبہ خیبرپختونخوا میں پولیو مہم میں شامل رضاکاروں پر سب سے زیادہ حملے ہوئے

اس پروگرام کے رابط کار یونس ظہیر سے رابط کر کے ان سے پولیو مہم اور اس پروگرام کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ پولیو مہم کے بارے میں تو نہیں جانتے لیکن صحت کا انصاف پروگرام میں بچوں میں نو بیماریوں (کالی کھانسی وغیرہ) کے خاتمے کے لیے مہم پشاور ضلع میں مہم شروع ہو گی۔

تو کیا اس میں پولیو بھی شامل ہے؟ تو اس پر انھوں نے کہا کہ ہاں پولیو تو شامل ہے لیکن صحت کا انصاف آئندہ اتوار سے شروع ہو گا اور اس ضمن میں میڈیا مہم بھی شروع کی جائے گی جس میں بڑی بڑی بیماریوں کے نام ہوں گے۔

سکیورٹی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس میں 12 ہزار رضاکار شامل ہوں اور ان کی سکیورٹی پر چار ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ پشاور دنیا بھر میں پولیو وائرس کا سب سے بڑا گڑھ ہے اور ملک میں 90 فیصد پولیو وائرس جنیاتی طور پر پشاور میں موجود وائرس سے جڑا ہوا ہے۔

پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم میں شاممل رضاکاروں اور ان کی حفاظت کے لیے تعینات سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں اور گذشتہ سال کے اعداد وشمار کے مطابق حملوں میں 17 افراد ہلاک اور 20 کے قریب زخمی ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں خواتین رضاکاروں کے علاوہ سکیورٹی اہلکا بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی پولیو مہم کی ٹیموں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں