پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک مذاکرات کا دوبارہ آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے

پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک مذاکرات پیر کو واشنگٹن میں شروع ہورہے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان وزارتی سطح کے مذاکرات میں ورکنگ گروپس کی پیش رفت کاجائزہ لیاجائے گا۔

گرم سرد پاک امریکہ تعلقات

ڈرون حملے نہیں رکیں گے، سٹریٹیجک ڈائیلاگ بحال

دفاع، توانائی ، معیشت ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسداد دہشت گردی سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں میں شرکت داری کیلئے تجاویز اور مواقعوں پربھی تبادلہ خیال کیاجائے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق دفترخارجہ نے بتایا ہے کہ پاکستان اس موقعے کو تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے سمیت اقتصادی ترقی کیلئے ترجیحات کو اجاگر کرنے کیلئے بروئے کار لائے گا۔

گذشتہ برس اگست میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے ہمراہ مذاکرات کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے اور پاکستان امریکی مارکیٹوں تک بہتر رسائی اور پاکستان میں براہِ راست امریکی سرمایہ کاری بھی چاہتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کہ درمیان 2010 میں سٹریٹیجک مذاکرات کا آغاز ہوا تھا تاہم 2011 میں اسامہ بن لادن کی خفیہ کارروائی میں ہلاکت سمیت کئی واقعات دونوں ممالک میں تلخی کا سبب بنے اور یہ مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوئے۔

پاکستان نےسلالہ چیک پوسٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز کے حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے تیل اور دوسری رسد کی فراہمی روک دی تھی۔ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں امریکہ کے زیر استعمال شمسی ائر بیس کو خالی کرایا گیا تھا۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے گذشتہ برس اگست میں پاکستان کے دورے کے موقعے پر مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا کے امریکہ کی کوشش ہوگی کہ مذاکرات میں سلامتی اور اقتصادیات پر بات کی جائے اور مستقبل کے تعلقات کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔

پاکستان کی مشروط مدد

ایک روز قبل ہی پاکستان میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے اس بات کی تصدیق کی ہے امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاونت کے لیے 35 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی منظوری دی ہے۔

تاہم اس سے قبل امریکی کانگریس نے نئے مالی سال کے لیے بجٹ کے مسودے میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے دی جانے والی رقم کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کیا تھا۔

امریکی شرائط کے تحت امریکی وزرائے خارجہ و دفاع کو امریکی کانگریس کو یہ بتانا ہوگا کہ پاکستان القاعدہ، تحريكِ طالبان پاکستان، حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوری کے خلاف کارروائی میں کیا مدد کر رہا ہے۔

انھیں کانگریس کو یہ یقین بھی دلانا ہوگا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے امریکی یا افغان فوج پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات اٹھا رہا ہے۔

اسی بارے میں