پاکستان افراتفری کے عالم میں ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بلوچستان کے صوبے کوئٹہ میں ایک خودکش بم حملے میں 29 شیعہ زائرین کو ہلاک کر دیا گيا

پاکستان میں تشدد کی لہر نئی بلندیوں پر پہنچ چکی ہے۔ شدت پسندوں کی جانب سے ملک بھر میں مہلک حملے کر رہے ہیں اور حکومت کیا کریں کیا نہ کریں کی شش و پنج میں پھنسی ہوئی ہے۔

جنوری 21 بروز منگل پاکستان میں ایک عام دن تھا لیکن اس دن شیعہ مسلک کے 29 افراد کو سنّی شدت پسندوں نے بلوچستان کے صوبے کوئٹہ میں ایک خودکش بم حملے میں ہلاک کر دیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک کار ایک بس سے جا ٹکرائی جس میں شیعہ مسلک کے افراد سفر کر رہے تھے۔ دریں اثنا کراچی میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے اور اس حملے کی ذمہ داری بھی سنّی شدت پسندوں نے قبول کی ہے۔

اور اسی دن لاہور میں نامعلوم افراد کی گولیوں سے اردو کے معروف ادیب پروفیسر اصغر سید ندیم زخمی ہوئے۔

اسی دوران طالبان کے شدت پسندوں نے پولیو کے خاتمے کے لیے دوا پلانے والے تین کارکنوں کو کراچی میں ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔ یہ کراچی میں ہونے والا تیسرا حملہ تھا۔

دریں اثنا حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی وزیرستان میں ایک فضائی حملے میں 40 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی بظاہر راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹرز کے قریب ہونے والے حملے کے جواب میں کی گئی تھی جس میں آٹھ فوجیوں سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شدت پسند گروپ لشکر جھانگوی ملک بھر میں شیعہ مسلک کے خلاف نسل کشی پر آمادہ ہے

اس سے ایک روز قبل ملک کے شمال مغربی علاقے میں ایک پولیس قافلے پر حملے کے نتیجے میں 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

بہرحال فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال نے طالبان کے حملوں میں کمی لانے کے بجائے صرف اضافہ ہی کیا ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے واقعے میں 22 جنوری کو 12 سکیورٹی اہلکار کو ہلاک کیا ہے۔

پاکستان میں پرتشدد کارروائیاں انتہا کو پہنچ چکی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان سے سرمایہ بیرون ملک منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں اور ملک کا امیر طبقہ اپنے بچوں کو ملک سے باہر بھیج رہے ہیں۔

کئی مہینوں تک نواز شریف حکومت نے شدت پسندوں سے بات چیت کرنے کی بے سود پالیسی اپنائے رکھی اور اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اس کے باوجود مسٹر شریف مفلوج نظر آ رہے ہیں اور انھیں اس بحران کو حل کرنے کی جلدی نہیں ہے کہ وہ بات چیت کی بے جا امید چھوڑ دیں اور فوج کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیں۔

گذشتہ جون میں جب سے وہ اقتدار میں آئے ہیں معاشی ایجنڈے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے، بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے، افغانستان میں مفاہمت کرانے یا پھر اپنے ملک میں تشدد پسندی سے لڑنے میں انھوں نے انتہائی سست روی کے ساتھ پیش رفت کی ہے۔

فوج اور حکومت کے درمیان خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے۔ فوج حکومت کی مفلوج پالیسی سے پریشان ہے جبکہ اس کے فوجی کثیر تعداد میں مارے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طالبان پاکستان کے فوجیوں اور شہریوں پر حملے میں اب مسجدوں، گرجا گھروں اور بازاروں میں عمومی بم باری شامل ہو گئی ہے

بہر حال نہ تو حکومت اور نہ ہی فوج نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی حکمت عملی اپنائی کیونکہ اس صورت حال میں تمام شدت پسند گروہ سے لڑنا ہوگا اور ان میں وہ پنجابی گروہ بھی شامل ہیں جو بھارت کے خلاف کشمیر میں برسرپیکار ہیں۔

اس کے باوجود شدت پسند روز بروز مضبوط ہو رہے ہیں۔ اپنے متواتر حملوں سے وہ عوام اور سکیورٹی فورسز کے مورال کو کم کررہے ہیں۔

طالبان کے اہداف بڑھ چکے ہیں۔ اب وہ فوجیوں، کے علاوہ مسجدوں، گرجا گھروں اور بازاروں میں عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں طالبان کے خود کش بمباروں نے نشانے بازوں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے سیاست دانوں، بیورکریٹس اور فوج اور پولیس کے سینیئر اہلکاروں کی ٹارگیٹ کلنگ میں ماہرات حاصل کی ہے۔

دریں اثنا سنی شدت پسند گروپ لشکر جھنگوی ملک بھر میں شیعہ مسلک کی نسل کشی پر آمادہ ہے اور ان کے سربراہان پنجاب میں کھلے بندوں گھوم رہے ہیں۔

شیعہ مخالف مہم اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے پنجاب سمیت تمام صوبے اور شہر اس کی زد میں ہیں۔ پنجاب ابھی تک محفوظ تصور کیا جا رہا تھا۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنے 21 جنوری کی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’عسکری گروہ ملک بھر میں تقریباً سزا سے ماورا کام کر رہے ہیں کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نے یا تو چشم پوشی کر رہی ہے یا پھر حملے روکنے میں ناکام ہے۔‘

اسی بارے میں