’مشرف نے اپنے لیے نیا پھندا منتخب کر لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مشرف کے ڈیل کے ذریعے بیرون ملک جانے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بہت کمزور ہیں اور اسی لیے انہیں اپنے لیے نیا پھندا منتخب کر لیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ سابق صدر کو عدالت جانا چاہیے تھا لیکن وہ فرار ہو کر ہسپتال چلے گئے۔’اب ہسپتال جا کر وہ بند گلی میں پھنس گئے ہیں اور وہاں سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا، اب وہاں سے باہر نکلتے ہیں تو عدالت ہے اور وہاں ہی رہتے ہیں تو ان کی چیر پھاڑ ہو گی۔‘

پرویز رشید نے کہا کہ سابق فوجی حکمران جو بھی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اس سے اپنے گلے کے لیے ایک نیا پھندا منتخب کر لیتے ہیں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات کے مطابق جو بھی قانون سے دوڑتا ہے تو خود کو چیر پھاڑ کے حوالے کر دیتا ہے اور میری مشرف سے پھر درخواست ہے کہ چیر پھاڑ سے بچنے کے لیے خود کو قانون کے حوالے کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پرویز مشرف اب بند گلی میں پھنس گئے ہیں: پرویز رشید

انھوں نے پرویز مشرف کے ایک خفیہ ڈیل کے ذریعے بیرون ملک جانے کی اطلاعات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ طاقتور قانون ہے اور اس قانون میں کوئی گنجائش نہیں کہ ملزم بیرون ملک چلا جائے۔

پرویز مشرف اس وقت راولپنڈی میں فوج کے زیرِ انتظام چلنے والے ادارے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیرعلاج ہیں۔

ہسپتال کے میڈیکل بورڈ کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف کو اینجیوگرافی کی فوری ضرورت ہے اور اگر اس سے متعلق جلد کوئی فیصلہ نہ کیا گیا اور وہ اسی طرح دباؤ میں رہے تو اُنھیں دل کا جان لیوا دورہ پڑ سکتا ہے

شدت پسندی کے خلاف پالیسی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف ریاست کی ہر طاقت کا استعمال کریں گے : پرویز رشید

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے ملک میں جاری شدت پسندی اور طالبان سے بات مذاکرات یا ان کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جو پاکستان کے موجودہ نظام کو ختم کر کے اپنا جبر کا نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں، ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹکارہ پانا ہماری پالیسی کا حصہ ہے اور ہم اس کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

طالبان کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرِ اطلاعات نے طالبان کا نام لیے بغیر کہا کہ’حکومت کی رٹ کو چینلج کرنے والوں کو ختم کرنا وزیراعظم نواز شریف کا پختہ عزم ہے اور اس کے لیے جو راستہ بھی اختیار کرنا پڑے گا اس سے گریز نہیں کیا جائے گا۔‘

’جو لوگ تشدد کرتے ہیں، بدامنی پھیلاتے ہیں، اور جو قتل غارت گری کرتے ہیں ان کو ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کیا جائے گا اور انھیں ختم کرنے اور راہ راست پر لانے کے لیے ریاست کی ہر طاقت کو استعمال کیا جائے گا۔‘

پاکستان میں حالیہ دنوں شدت پسندی کے متعدد واقعات کے بعد حکومت پر تحریک طالبان سے بات چیت کرنے یا ان کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

بنوں میں فوج پر بم حملے اور راولپنڈی میں بری فوج کے ہیڈ کوارٹر کے قریب آر اے بازار دھماکے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد فوج نے شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی تھی جس میں فضائی طاقت بھی استعمال کی گئی تھی۔

اسی بارے میں