ججز کیس: مشرف کو پیشی سے ایک دن کا استثنیٰ

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption عدالت نے پرویز مشرف کی پیشی تک ان کے ضامنوں کو ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا

اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبسِ بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں عدالت میں پیشی سے ایک دن کے لیے استثنیٰ دیتے ہوئے دس فروری کو آئندہ سماعت پر اُنھیں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج عتیق الرحمان نے پیر کو مقدمے کی سماعت کی تو ملزم پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی نے اپنے موکل کی صحت سے متعلق ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی جسے دیکھنے کے بعد عدالت نے پرویز مشرف کو ایک روز کے لیے عدالت میں پیشی سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل عامر ندیم تابش کا کہنا ہے کہ اگر کسی مقدمے میں ایک ہی ملزم ہو تو ضابطۂ فوجداری کے تحت اُنھیں عدالت میں پیشی سے استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔

گُذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا تھا کہ ملزم پرویز مشرف کو ہر صورت میں عدالت میں پیش کیا جائے چاہے اُنھیں ہسپتال سے ایمبیولینس میں ہی کیوں نہ لانا پڑے۔

پولیس کا اس معاملے میں موقف تھا کہ چونکہ پرویز مشرف اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں اس لیے پولیس اُنھیں کس حیثیت میں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے۔

عدالت نے اس مقدمے میں ملزم پرویز مشرف کے ضامنوں کو بھی اُس وقت تک ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

سابق صدر کے وکیل نے اس مقدمے میں اُن کے دو ضامنوں کو بھی مستقل طور پر عدالت میں پیش ہونے سے استثنیٰ دینے کے لیے درخواست دی جسے عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ جب تک ملزم پرویز مشرف خود عدالت میں پیش نہیں ہوتے اُس وقت تک ضامن عدالت میں پیش ہوتے رہیں گے۔

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں پرویز مشرف کی پانچ پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر ضمانت ہوئی تھی۔

اس مقدمے میں 15 گواہان کی شہادتیں قلم بند ہوچکی ہیں جبکہ مزید چار وکلا کی شہادتیں قلم بند کی جانی ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عدالت میں پیش ہونے سے استثنیٰ دے رکھا ہے کیونکہ اس مقدمے میں سابق فوجی صدر سمیت آٹھ دیگر ملزمان بھی شامل ہیں۔

دوسری طرف سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے پرویز مشرف کی صحت سے متعلق اے ایف آئی سی کے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر تحریری جواب عدالت میں جمع کروا دیا ہے جبکہ اس مقدمے کی سماعت 29 جنوری کو ہونا ہے۔

اسی بارے میں