فضل اللہ کے طالبان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں:نثار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چوہدری نثار نے بتایا کہ وہ قبائل اور تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے وہ شدت پسند گروہ جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ اکثریت میں ہیں

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت تحریک طالبان پاکستان کے بجائے ان شدت پسند گروہوں اور قبائل کے ساتھ رابطے میں ہے جو حکومت کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سوموار کے روز قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملا فضل اللہ کی قیادت میں کام کرنے والی تحریک طالبان ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے اور گزشتہ ہفتے بنوں میں فوجی قافلے پر حملہ اسی مقصد کے لیے کیا گیا تھا۔

طالبان کے خلاف ایکشن کے حامیوں کو پذیرائی ملی ہے: وزیر اعظم

چوہدری نثار نے کہا کہ ’اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے ٹی ٹی پی کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا ان میں دو ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جن میں یہ پیغام تھا کہ یہ حملہ انہی رابطوں کو سبو تاژ کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔‘

چوہدری نثار نے بتایا کہ وہ قبائل اور تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے وہ شدت پسند گروہ جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ اکثریت میں ہیں۔

’ان گروہوں اور قبائل کے ساتھ مذاکرات میں آغاز ہی سے بہت کامیابی ہوئی تھی۔ معاملہ آگے چل پڑا تھا۔ یہ تک طے ہو گیا تھا کہ وہ لوگ پہلے (مذاکرات کے آغاز کا) بیان جاری کریں گے اور پھر حکومت اسی طرح کا بیان جاری کرے گی۔ عین اس موقع پر بنوں میں سکیورٹی فورسز پر حملہ ہو گیا۔‘

حزب اختلاف، خاص طور پر عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی میں اس تنقید پر کہ حکومت کی پالیسی ابھی تک واضح نہیں ہے، حکومت کی جانب سے چوہدری نثار علی خان نے پہلی بار طالبان شدت پسندوں کے ساتھ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہونے والی مذاکرات کی کوششوں کی تفصیل بتائی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جب کہ حزب اختلاف اور میڈیا ہم پر بے عملی کا الزام لگا رہا تھا، تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود کے ساتھ معاملات بہت آگے بڑھ چکے تھے۔

’میرے پاس حکیم اللہ محسود کے دستخط سے جاری ہونے والا وہ خط موجود ہے جس میں انہوں نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرنے کے ساتھ اپنی جانب سے سات لوگوں کو نامزد کیا تھا۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ ایک سینیئر صحافی بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ حکیم اللہ نے سرکاری طور پر نامزد سات میں سے پانچ لوگوں کے نام منظور کر کے دو نام اپنی طرف سے بھی تجویز کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حکیم اللہ کی ہلاکت کے بعد بننے والے نئے امیر ملا فضل اللہ نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ صاف انکار کر دیا اور وہ لوگ جو حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں رابطے میں تھے، وہ روپوش ہوگئے۔

’ہم نے بہت کوشش اور محنت کی۔ بہت رابطے کیے لیکن ادھر بیٹھے ملا فضل اللہ نے ان رابطوں کی کوششوں تک کا کوئی جواب نہیں دیا۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ اس موقع پر حکومت نے طے کیا کہ ہم ان گروہوں اور قبائل سے رابطے کریں گے جو مذاکرات کی خواہش رکھتے ہیں۔

’یہ کام ہم حکیم اللہ کی زندگی میں بھی کر سکتے تھے۔ اس وقت بھی بہت سے گروہوں نے علیحدہ علیحدہ ہم سے رابطے کیے۔ لیکن ہم نے ان سے اس لیے بات نہیں کی کہ کہیں حکیم اللہ یہ نہ سمجھے کہ حکومت اس کی تنظیم میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہم نے یہ مذاکرات خلوص نیت سے کیے تھے۔‘

انہوں نے کہا جب تحریک طالبان کے ترجمان یہ کہتے ہیں کہ حکومت سے بات چیت نہیں ہو رہی تو بعض اوقات ان کا دل بھی کچھ کہنے کو چاہتا ہے۔

’میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی بیان دوں اور بتاؤں کہ اس اس گروہ سے ہمارے رابطے ہیں۔ پھر پتہ چلے گا کہ تحریک طالبان پاکستان کے اندر کے کیا حالات ہیں۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ حکومت نے اپنی پارلیمانی پارٹی میں اس بارے میں گفتگو کی ہے لیکن حتمی فیصلہ پارلیمنٹ اور دیگر جماعتوں کی رائے سننے کے بعد کیا جائے گا۔

’اب یہ آپ فیصلہ اس پارلیمنٹ اور عوام نے کرنا ہے کہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں یا فوجی کارروائی۔‘

اسی بارے میں