پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کیا جائے: سرتاج عزیز

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے

پاکستان کے امورِ خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ سنہ 2014 میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کی انخلا کے بعد خطے میں پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کیا جائے۔

انھوں نے یہ بات پیر کو واشنگٹن میں امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک مذاکرات کے موقع پر کہی۔

یاد رہ کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک مذاکرات پیر کو واشنگٹن میں تین سال کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔

سرتاج عزیز نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے اتحادی افواج کی انخلا کے بعد وہاں پر کسی بھی قسم کی عدم استحکام کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑے گا۔

اس موقع پر امریکہ کے سیکریٹری خارجہ جان کیری نے کہا کہ پاکستان ایک معاشی طاقت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن انھوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنی ترقی کی دوڑ میں خواتین اوع اقلیتیوں کو بھی شامل کریں۔

گرم سرد پاک امریکہ تعلقات

ڈرون حملے نہیں رکیں گے، سٹریٹیجک ڈائیلاگ بحال

اس سے پہلے امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک اہل کار نے بتایا تھا کہ مذاکرات میں دفاع، توانائی، معیشت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسداد دہشت گردی سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں میں شرکت داری کے لیے تجاویز اور مواقع پر بھی تبادلۂ خیال کیاجائے گا۔

توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان وزارتی سطح کے مذاکرات میں ورکنگ گروپس کی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق دفتر خارجہ نے بتایا ہے کہ پاکستان اس موقعے کو تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے سمیت اقتصادی ترقی کے لیے ترجیحات کو اجاگر کرنے کے لیے بروئے کار لائے گا۔

بی بی سی کے واشنگٹن میں نامہ نگار برجیش اوپادھیا نے بتایا کہ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایسے ہی بیانات سامنے آ رہے ہیں جن کی ایسے دورے سے قبل توقع کی جا سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جان کیری کی کوشش ہوگی کہ وہ سرتاج عزیز کو اس بات کا یقین دلائیں کہ امریکہ افغانستان سے افواج کے انخلا کے بعد پاکستان کا ساتھ نہیں چھوڑ دے گا۔

گذشتہ برس اگست میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے ہمراہ مذاکرات کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے اور پاکستان امریکی مارکیٹوں تک بہتر رسائی اور پاکستان میں براہِ راست امریکی سرمایہ کاری بھی چاہتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کہ درمیان 2010 میں سٹریٹیجک مذاکرات کا آغاز ہوا تھا تاہم 2011 میں اسامہ بن لادن کی خفیہ کارروائی میں ہلاکت سمیت کئی واقعات دونوں ممالک میں تلخی کا سبب بنے اور یہ مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہو گئے۔

پاکستان نےسلالہ چیک پوسٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز کے حملے میں 24 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے تیل اور دوسری رسد کی فراہمی روک دی تھی۔ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں امریکہ کے زیر استعمال شمسی ایئر بیس کو خالی کرایا گیا تھا۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے گذشتہ برس اگست میں پاکستان کے دورے کے موقعے پر مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

ایک امریکی اہل کار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ کی کوشش ہوگی کہ مذاکرات میں سلامتی اور اقتصادیات پر بات کی جائے اور مستقبل کے تعلقات کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔

پاکستان کی مشروط مدد

ایک روز قبل ہی پاکستان میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے اس بات کی تصدیق کی ہے امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاونت کے لیے 35 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی منظوری دی ہے۔

تاہم اس سے قبل امریکی کانگریس نے نئے مالی سال کے لیے بجٹ کے مسودے میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے دی جانے والی رقم کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کیا تھا۔

امریکی شرائط کے تحت امریکی وزرائے خارجہ و دفاع کو امریکی کانگریس کو یہ بتانا ہوگا کہ پاکستان القاعدہ، تحريكِ طالبان پاکستان، حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوری کے خلاف کارروائی میں کیا مدد کر رہا ہے۔

انھیں کانگریس کو یہ یقین بھی دلانا ہوگا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے امریکی یا افغان فوج پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کر رہا ہے۔

اسی بارے میں