بلاول کو نیٹ پریکٹس کرنے دیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فی الحال تو بلاول سندھ فیسٹیول کی تیاریوں میں مصروف ہیں

بلاول بھٹو زرداری کے پاس سیکھنے کو اک عمر پڑی ہے اور اگر مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی میں خاموش مفاہمت کا موجودہ راؤنڈ جاری رہا اور فوج کو بھی البرٹ پنٹو کی طرح غصہ نہ آیا تو اگلے عام انتخابات کی مہم اور 25 سالہ بلاول کے درمیان ابھی ساڑھے چار سال ہیں۔

اتنا عرصہ نانا اور والدہ جیسی اردو اور سندھی سیکھنے اور بولنے کے لیے بہت ہوتا ہیں اور بلاول کا تعلیمی ریکارڈ بتاتا ہے کہ انھیں سیاسی اردو اور انتخابی میتھس یاد کرنے میں زیادہ دقت نہیں ہوگی۔

مگر ساڑھے چار سال کے فاصلے کا یہ مطلب تو نہیں کہ آدمی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہے۔ کیونکہ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی، لہٰذا بلاول کے کاندھوں پر ملک کی اگر پہلی نہیں تو دوسری بڑی سیاسی جماعت کا بوجھ بڑھتا چلا جائے گا اور یہ بوجھ تبھی کم ہوگا جب پیپلز پارٹی کی کشتی میں سے فرسودہ انکلوں اور آنٹیوں کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ تھما کے کشتی کو ہلکا کیا جائے اور ان پرانوں کی جگہ کچھ ایسے تروتازہ اور نظرانداز شدہ مخلص چہرے لائے جائیں جو اگلے عام انتخابات تک اس ملک کی 60 فیصد نوجوان آبادی کو سمجھ بھی سکیں اور رجھا بھی سکیں۔

چونکہ اس وقت تروتازہ چہرے دستیاب نہیں اور آصف علی زرداری اور پھوپھی فریال تالپور بھی فی الحال بلاول کو ایک ہونہار زیرِ تربیت برخوردار سے زیادہ درجہ دینے کو تیار نہیں، لہٰذا بلاول اپنا زیادہ تر وقت ’جیسے آپ کہیں سر‘ کی عادت میں مبتلا سیکنڈ ہینڈ مشیروں کو برداشت کرنے اور سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر کی مدد سے پاکستانی سیاست کے غیر یقینی مزاج کے اتھلے پانی کو چیک کرنے کی مشق میں بِتا رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کو یہ بھی لگتا ہے کہ بلاول کو آنے والے سیاسی تھیئیٹر کے لیے گرگِ باراں دیدہ زرداری نے جوشیلے کا کردار سونپا ہے اور اپنے لیے ہوشیلے کا کردار ہی رکھا ہے۔

شروع شروع میں بلاول جوش کی کلاشنکوف کا پورا برسٹ چلا دیتے تھے اور جس مخالف کو گولی مارنا مقصود نہیں بھی ہوتا تھا اسے بھی لگ جاتی تھی لیکن اب غالباً انھیں بتایا گیا ہے کہ برسٹ سے ٹارگٹ کلنگ زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بلاول نے پچھلے کئی دنوں سے شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک مسلسل لائن لی ہے اور ایسے وقت جب دیگر قابل ذکر جماعتیں ایک گال پر طمانچے کا جواب دوسرا گال آگے کر کے دینے کی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں، بلاول کی دہشت گردی کے خلاف لائن نہ صرف تازہ نظری جھونکے جیسی لگ رہی ہے بلکہ اس بارے میں اپنی والدہ کے موقف کا تسلسل بھی محسوس ہو رہی ہے۔

مگر فی الحال بنکر نما رہائش گاہ میں بیٹھ کے سوشل میڈیا کے ذریعے اس موقف کا پرچار کرنا ہی مناسب اور درست حکمتِ عملی ہے جب تک یہ واضح نہیں ہوجاتا کہ طالبان اور ان سے منسلک گروہوں کے بارے میں فوج المعروف اسٹیبلشمنٹ کی حتمی حکمتِ عملی کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بلاول آج کل سندھ فیسٹیول کی تیاریوں میں مصروف ہیں

اگر اسٹیبلشمنٹ اتنے دھچکے سہنے کے بعد بھی اچھی اور بری دہشت گردی کی قسم بندی میں جٹی رہتی ہے اور افغانستان کی سٹریٹیجک ڈیپتھ کے خیالی نظریے سے مکمل طور پر جان نہیں چھڑا سکی تو پھر بلاول کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنے موجودہ دہشت گرد کش موقف پر ہی برقرار رہتے ہیں یا والدِ محترم کے اس آزمودہ فلسفے میں پناہ لیتے ہیں کہ بیانات قرآن و حدیث تھوڑا ہی ہوتے ہیں، سیاستداں کو عملیت پسند اور لچکدار ہونا چاہیے۔

اگر بلاول کچھ عرصے بعد اپنی پالیسیاں خود بنا کر نافذ کرنے کی آزادی حاصل کر کے واقعی پیپلز پارٹی کے فعال اور خودمختار چیئرمین ہو جاتے ہیں تو پھر دوسرا بڑا چیلنج خود پیپلز پارٹی کی شکل میں درپیش ہوگا جس کی اگلے پانچ سال کی سندھ کی حد تک کارکردگی طے کرے گی کہ واقعی بلاول کی موجودگی میں پارٹی میں نئی سوچ اور عمل کا خون داخل ہوا ہے یا پھر 46 برس پرانے چہرے پر نئی لیپا پوتی کر کے اسے 16 سال کا دکھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

فی الحال تو بلاول سندھ فیسٹیول کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔حالانکہ بدترین لا اینڈ آرڈر اور عوام کے روزمرہ ذہنی سکون کی بربادی کے ہوتے ہوئے کسی لمبے چوڑے شاندار فیسٹیول کا خیال عجیب سا لگتا ہے لیکن بلاول کی نیٹ پریکٹس کے لیے یہ فیسٹیول بھی تو ضروری ہے۔

اسی بارے میں