پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کم ترین سطح پر: احسن اقبال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پچھلے سال کی نسبت اس میں 37 فیصد کمی ہوئی ہے

پاکستان میں منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اپنی کم ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رکن شیخ رشید احمد کے نقطۂ اعتراض کے جواب میں احسن اقبال نے ان کے خدشات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار پریشان کن ہیں۔

’جن خدشات کی جانب آپ اشارہ کر رہے ہیں ان سے میں نہ صرف متفق ہوں بلکہ سمجھتا ہوں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی جو حالت اس وقت ہے وہ نہایت پریشان کن ہے۔ پاکستان میں اتنی کم سرمایہ کاری ماضی میں کبھی نہیں ہوئی۔‘

قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں مسلسل گراوٹ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پچھلے سال کی نسبت اس میں 37 فیصد کمی ہوئی ہے۔

اس وقت تک ملک میں صرف 41 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جو اب تک سب سے کم ہے۔

پاکستان میں پچھلے دس سالوں میں بیرونی سرمایہ کاری میں دس گنا کمی ریکارڈ کی گئی ہے جسے ملک کے لیے خطرناک رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے سابق مشیر اور اقتصادی ماہر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کہتے ہیں کہ وہ اس صورتِ حال سے خوفزدہ ہیں: ’میں یہ اعداد و شمارجان کر بہت خوفزدہ ہو گیا ہوں۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اس قدر کمی ظاہر کرتی ہے کہ دنیا ہمارے ملک کے بارے میں کیا سوچتی ہے اور سمجھتی ہے۔‘

ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے معاشی ترقی کو کوئی اہمیت نہیں دی اور موجودہ حکومت کے پاس معیشت بہتر بنانے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔

’معیشت کی بہتری پیپلز پارٹی کی حکومت کے ایجنڈے پر ہی نہیں تھی۔ اس لیے انھوں نے اس پر زیادہ توجہ ہی نہیں دی۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت اس بارے میں کچھ کرنا چاہتی ہے لیکن ان کے پاس وہ صلاحیت یا ٹیم نہیں ہے جو یہ کام کر سکے۔‘

بیرونی سرمایہ کاری کو کسی بھی معیشت کے لیے اہم ترین شعبہ قرار دیا جاتا ہے۔ معاشی تجزیہ کار احمد مختار کا کہنا ہے کہ زرِ مبادلہ اور غیر ملکی ٹیکنالوجی نہ صرف ملک کے معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ سرمایہ کاری عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتی ہے:

’غیر ملکی کمپنیاں جب کوئی پراجیکٹ کسی ملک میں لاتی ہیں تو اس کے ساتھ وہ اپنی ٹیکنالوجی اور روایات بھی اپنے ساتھ لاتی ہیں۔ مثلاً ڈیری سیکٹر میں آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستانی دیہات میں نہ صرف اچھے روزگار کے موقع پیدا کیے بلکہ وہاں سماجی بہبود کے بھی بہت سے منصوبے شروع کیے ہیں۔‘

منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ انھی حقائق کی بنا پر حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی جانب راغب کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔

انھوں نے چین کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے سرمایہ کاری کے بعض معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اس جانب خاصی پیش رفت کی ہے۔

اسی بارے میں