’مشرف مجرم ہے تو سزا دیں مگر سزا کسی کی خواہش پر نہ دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 31 جولائی کے فیصلے میں نہ تو میرے موکل پرویز مشرف کو سُنا گیا اور نہ ہی اعلیٰ عدلیہ کے اُن ججز کو سُنا گیا جنہوں نے پرویز مشرف کے دوسرے عبوری حکم نامےکے تحت اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا تھا: فیصل چوہدری

جنرل پرویز مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے سپریم کو رٹ کے چودہ رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نومبر 2007 میں ایمرجنسی ججوں کو ہٹانے کے لیے لگائی گئی تھی اور اگر ان پر غداری کا مقدمہ چلانا ہے تو پھر 12 اکتوبر 1999 سے آغاز کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے 31 جولائی سنہ 2009 کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے ایڈوکیٹ ابراہیم ستی نے کہا ہے کہ اگر پارلیمنٹ نے تین نومبر 2007 کے اقدامات کی توثیق نہیں کی تھی تو اٹھارہویں ترمیم میں 12 اکتوبر 1999 کے واقعات کی قانونی توثیق بھی واپس لے لی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو پرویز مشرف پر 2007 کے حوالے سے مقدمہ چلانا ہے تو ان پر 1999 کے حوالے سے بھی مقدمہ چلائیں، جس کے تحت سابق چیف جسٹس نے بھی حلف اٹھایا تھا۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکیل نے کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کا اقدام عدلیہ کو ہٹانے کے لیے کیاگیا تھا۔

نظرثانی کی اس درخواست کی سماعت چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں منگل کی صبح سپریم کورٹ کے 14 رکنی بینچ نے کی۔

دلائل دیتے ہوئے پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ اُس وقت ملک میں ایمرجنسی اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کے خفیہ خط پر لگائی گئی تھی جو اُس وقت کی عدلیہ کی رویے کے بارے میں تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی اور پی سی او کا نفاذ اُس وقت کی حکومت، گورنروں اور کور کمانڈروں کے مشورے سے کیا تھا جبکہ 31 جولائی کے فیصلے میں صرف پرویز مشرف کا ذکر کیا گیا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی صرف ججوں کے لیے لگائی گئی تھی۔ اس پر پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ اُس وقت کا اقدام عدلیہ کو ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔

ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ 31 جولائی کے فیصلے میں پی سی او کا اصل مسودہ ہی پیش نہیں کیا گیا کیونکہ اُس روز پرویز مشرف نے دو احکامات جاری کیے تھے ایک بحثیت آرمی چیف جبکہ ججوں سے متعلق بحثیت صدر جاری کیے تھے۔

عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کو 29 جنوری تک اپنے دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے جس کے بعد پرویز مشرف کے دوسرے وکیل شریف الدین پیرزادہ اُس وقت کی عدلیہ کے تعصب پر دلائل دیں گے۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے کہا ہے کہ اگر پارلیمنٹ نے تین نومبر 2007 کے اقدامات کی توثیق نہیں کی تھی تو اٹھارہویں ترمیم میں 12 اکتوبر 1999 کے واقعات کی قانونی توثیق بھی واپس لے لی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو پرویز مشرف پر 2007 کے حوالے سے مقدمہ چلانا ہے تو ان پر 1999 کے حوالے سے بھی مقدمہ چلائیں، جس کے تحت سابق چیف جسٹس نے بھی حلف اٹھایا تھا۔

پرویز مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے کہا ہے کہ اگر اُن کے موکل تین نومبر کے اقدامات کرنے پر مجرم ہیں تو قانون کی مطابق اُنھیں ایک ہزار مرتبہ سزا دی جائے لیکن یہ سزا کسی کی خواہش پر نہیں ہونی چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ 31 جولائی کے فیصلے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ جب سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے 16 مارچ سنہ 2009 کو کی گئی تھی اور سب لوگ جانتے ہیں کہ سابق چیف جسٹس اُن کے موکل کے ساتھ ذاتی عناد رکھتے تھے اور 31 جولائی کا فیصلہ اس کی عکاسی کرتا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ متفقہ تھا اور اس بارے میں کسی بھی جج پر جانبداری کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں پرویز مشرف کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا اور پارلیمنٹ نے بھی اس اقدام کی توثیق نہیں کی تھی۔

سابق فوجی صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہر غیر آئینی اقدام غداری کے زمرے میں نہیں آتا۔ اُنھوں نے کہا کہ تین نومبر کا اقدام مشرف نے ذاتی حثیت میں نہیں بلکہ ملکی مفاد میں اُٹھایا تھا۔

چیف جسٹس نے تجویز دی کہ اگر غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو یہ کہہ دیا جائے کہ وہ 31 جولائی اور اقبال ٹکا خان کے فیصلوں کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے اس مقدمے کا فیصلہ کرے تو کیسا رہے گا؟ اس پر ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ کوئی جج عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف کیسے جاسکتا ہے جبکہ یہ فیصلہ ابھی تک فیلڈ میں موجود ہے۔

ابراہیم ستی نے عدالت سے کہا کہ اقبال ٹکا خان کیس میں سپریم کورٹ نے تین نومبر کے اقدام کو جائز قرار دیا تھا تاہم اسے رد کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بعد میں سپریم کورٹ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔

اس پر ابراہیم ستی نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے کسی بھی فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔

31 جولائی 2009 کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اُس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ 2007 ملک میں ایمرجنسی اور دیگر اقدامات کو نہ صرف غیر آئینی قرار دیا تھا بلکہ پرویز مشرف کے دوسرے عبوری آئینی حکم نامے یعنی پی سی او کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے متعدد ججوں کو بھی فارغ کردیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کی روشنی میں ہی وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ شروع کیا ہے۔

دوسری طرف پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے خصوصی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ دینے والے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو عدالت میں طلب کیا جائے کیونکہ وہ اُن پر جرح کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں