کراچی میں رینجرز پر حملے، اہلکاروں سمیت چار ہلاک

رینجرز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بدھ کو ہونے والے تینوں حملوں کا نشانہ رینجرز اہل کار تھے

کراچی کےعلاقے نارتھ ناظم آباد میں واقع سچل رینجرز کے ہیڈ کواٹرز پر ہونے والے خودکُش حملے میں دو رینجرز اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔

رینجرز کے حکام کے مطابق خودکُش حملہ آور کو بیرونی گیٹ پر روکا گیا تھا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

’کراچی میں امن کی بحالی تک آپریشن جاری رہے گا‘

’رینجرز تو خود ایک مسئلہ ہیں‘

اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں سے تین رینجرز اہلکاروں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے جنہیں ایک نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی شدید زخمی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی رینجرز کے اسی ہیڈ کواٹر پر آٹھ نومبر دوہزار بارہ کو خود کُش حملہ کیا گیا تھا جب بارودی مواد سے بھرا ایک چھوٹا ٹرک استعمال کیا گیا تھا۔ اس حملے میں رینجرز کے تین اہلکار ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے تھے۔

اس سے پہلے آج صبح کراچی کے علاقے ناظم آباد ہی میں میٹرک بورڈ آفس کے قرید موجود رینجرز کی ایک چوکی قریب دس منٹ کے وقفے سے دو دھماکے ہوئے جس سے ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

علاقے کے تھانے کے ایس ایچ او نواز گوندل نے بی بی سی کو بتایا ہلاک ہونے والا شخص رینجرز کا اہلکار عتیق الرحمان تھا جبکہ رینجرز کے دیگر تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

دیگر زخمیوں میں ایک پولیس کا سپاہی اور ایک چھیپا ایمبولینس سروس کا کارکن ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں دھماکے نصب شدہ بم کے تھے جو کسی کنکریٹ بلاک میں کچرا کنڈی کے قریب تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اندازہ ہے کہ دھماکوں میں تقریباَ َ تین کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔

یہ واقعات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب کراچی میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افرادکے خلاف ایک ٹارگٹڈ آپریشن گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے جس میں رینجرز اور پولیس حکام نے کئی ملزمان کو گرفتا کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

اسی بارے میں