طالبان سے مذاکرات، حزب اختلاف تعاون پر تیار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم کی قومی اسمبلی سے مسلسل غیر موجودگی پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے طالبان سے مذاکرات کے فیصلے پر حکومت کو حمایت کا یقین دلایا ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل پر مشاورت نہیں کی۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی طرف سے کی جانے والی تقریروں سے یہ بات عیاں تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف نے طالبان سے مذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن ارکانِ پارلیمان اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو اس اہم مسئلے پر تفصیلات اور حکمت عملی کے بارے میں ہنوز اعتماد میں نہیں لیا۔

قومی اسمبلی میں ہونے والی بحث سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ارکان پارلیمان طالبان سے مجوزہ مذاکرات کی شرائط اور نظام الاوقات سے بالکل بے خبر ہیں اور اس بارے میں بھی مکمل طور پر لا علم ہیں کہ حکومت شدت پسندوں کے کن گروہوں سے بات کرنے جا رہی ہے۔

قائدِ حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں لیکن ٹائم فریم ضرور دینا چاہیے: ’اگر آپ سات ماہ بعد بھی سمجھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ مذاکرات سے یہ چیز ٹھیک ہو جائے گی تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، لیکن اس کے لیے وقت متعین کیا جائے اور دیکھا جائے کہ وہ عناصر اس عرصے میں پھر سے دہشت گردی تو نہیں کرتے اور انسانی جانوں کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے؟‘

انھوں نے کہا کہ ساری قوم کی نظریں وزیراعظم پر ہیں، اور ان کی جماعت ہر قدم پر حکومت کے ساتھ ہے اور اپوزیشن کبھی بھی اس پر سیاست نہیں کرے گی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت نے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل میں ان سے مشاورت نہیں کی اگر ان سے مشاورت کی جاتی تو وہ بہت سی حساس باتیں وزیراعظم کے نوٹس میں لے آتے۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک بار پھر مذاکرات اور بات چیت کے عمل کو ترجیح دی ہے: ’اس سے قبل اس معاملے پر ابہام تھا کہ آخر کیا طریقۂ کار ہو گا، اب وزیراعظم فیصلہ دے چکے ہیں، فیصلہ اسی رخ پر ہے جس پر پہلے پارلیمنٹ نے مذاکرات کی بات کی ہے، ہم اس کی تائید کریں گےاور مکمل تعاون کریں گے۔‘

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور حکومت کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مذاکرات کو خفیہ نہ رکھا جائے: ’میں امید رکھتا ہوں کہ اس بار مذاکرات خفیہ نہیں ہوں گے، میڈیا جائے اور کمیٹی ممبران سے پوچھے کہ ڈائیلاگ کا عمل کہاں تک پہنچا ہے۔‘

انھوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ کیا حکومت کی جانب سے طالبان سے کاروائیاں بند کرنے کے مطالبے کے بعد خود بھی جنگ بندی کی جائے گی، اور قوم کو بتایا جائے گا کہ کون کون سے گروہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور جو نہیں انھیں الگ کیا جائے؟

عمران خان نے کہا کہ ڈرون حملے نے مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کیا اور جیسے ان کی جماعت نے نیٹو سپلائی کی بندش کے لیے سٹینڈ لیا حکومت کو بھی لینا چاہیے تھا۔

عمران خان نے تسلیم کیا کہ ملک میں اس وقت آپریشن کے حق میں فضا ساز گار ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انھوں نے 2011 میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کی جانب سے پارلیمنٹ کو دی جانے والی بریفنگ کا حوالہ دیا۔

’وزیراعظم اس میٹنگ میں موجود تھے، جنرل پاشا اور جنرل کیانی نے بریفنگ دی کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کیوں نہیں ہونا چاہیے، ایک بات یہ تھی کہ وہاں چھ سات لاکھ لوگ ہیں، اگر آپریشن ہوا تو نقصان ہو گا، متاثرین شدت پسندی کی طرف چلے جائیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ طالبان اپنی کاروائیوں کو ختم کریں لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سیز فائر بھی ہوگا؟

ایم کیو ایم کے راہمنا ڈاکٹر فاروق ستار نے مذاکرات کے فیصلے پر تنقید کی: ’مجھے نہیں معلوم کہ آپ کا ٹائم فریم کیا ہے، ہم یہ پیغام نہ دیں کہ گویا ہم نے ریاست پاکستان کو دہشت گردوں اور طالبان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ طالبان اب مذاکرات کی بات کر کے دراصل مزید مہلت لے رہے ہیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ ادھر مذاکرات کی بات ہوئی لیکن ادھر کراچی میں رینجرز پر حملہ ہوا ہے۔

’میں اسے کیا پیغام دوں کہ کیا ہم سب نے مل کر شہیدوں کے خون کا سودا کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا اعلان بھی کرنا چاہیے کہ ہم بے بس ہیں۔‘

اسی بارے میں