’سات ماہ لاشیں اٹھائیں، لیکن امن کو آخری موقع دینا چاہتا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ خود مذاکرات کے عمل کی نگرانی کریں گے

وزیراعظم میاں نواز شریف نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اس کمیٹی میں وزیراعظم کے قومی امور پر معاون خصوصی عرفان صدیقی، انٹیلی جنس بیورو کے سابق افسر میجر محمد عامر، سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی اور افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند شامل ہیں، جب کہ کمیٹی کی معاونت وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان کریں گے۔

طالبان سے مذاکرات، حزب اختلاف تعاون پر تیار

اگر حکومت سنجیدہ ہے تو پوزیشن واضح کرے: طالبان

قومی اسمبلی سے خطاب وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ خود اس عمل کی نگرانی کریں گے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے قوم ان کے ساتھ ہے لیکن وہ ماضی کے تلخ تجربات کو پسِ پشت ڈال کر مذاکرات کو آخری موقع دینا چاہتے ہیں۔

’ہم نے امن کی خاطر مذاکرات کے لیے سات ماہ تک لاشیں اٹھائی ہیں لیکن یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

’ہم اپنی قوم کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ دہشت گردی اور قتل و غارت اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ وہ شدت پسندوں کو مذاکرات کی یہ پیشکش خلوص دل اور نیک نیتی سے کر رہے ہیں اور اسی طرح کے ردعمل کی توقع بھی رکھتے ہیں۔

حزبِ اختلاف کی جانب سے تنقید کے بعد وزیرِ اعظم نے آج قومی اسمبلی میں حاضر ہوئے اور اپنے خطاب میں کہا امن کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری اور آئین کا تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا: ’عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔‘

وزیرِ اعظم نے مذاکرات کی سابقہ کوششوں میں ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے اے پی سی نے حکومت کو یہ اختیار دیا کہ وہ ان لوگوں سے مذاکرات کرے جو ہتھیار اُٹھائے ہوئے ہیں۔ہم نے انہیں مذاکرات کی دعوت دی۔‘

’بدقسمتی سے حکومت کی اس خیر خواہی کا مثبت جواب نہیں ملا۔ انھوں نے اعلانیہ مذاکرات سے انکار کیا بلکہ مسلسل پاکستانی فوج اور عوام کو اپنا ہدف بنائے رکھا۔‘

حال ہی میں ہونے والے فوج، سکولوں، میڈیا اور پولیو اہل کاروں پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان کارروائیوں کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

انھوں نے کہا دہشت گردی کا نشانہ بنننے والے ہر شحص کا دکھ ان کا ذاتی دکھ ہے۔

وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ کوشش نہایت خلوص اور نیک نیتی سے کر رہا ہوں اور اسی طرح کے جواب کی توقع ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’بارود اور آگ کھیل اب ختم ہونا چاہیے۔ ‘

عرفان صدیقی

دوسری جانب طالبان سے مذاکرات کے لیے وزیرِاعظم کی چار رکنی کمیٹی کے رکن عرفان صدیق نے کہا ہے کہ مذاکراتی عمل مہینوں اور سالوں پر مشتمل عمل نہیں ہو گا۔

بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ کمیٹی میں شامل چار میں سے تین افراد کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔

’تینوں ارکان کا اس معاملے میں بڑا گہرا مشاہدہ ہے اور حکومت ان کی مہارت سے اور دیانت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے‘۔

انھوں نے کہا ’طالبان سے باضابطہ رابطہ قائم کرنا اس کمیٹی کا پہلا بڑا مینڈیٹ ہے اس کے بعد جو مینڈیٹ آئیں گے وہ پیش رفت کے مطابق طے کیے جائیں گے۔‘

مذاکراتی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے کہا ’بہت ہی اچھا ہو کہ طالبان بھی اپنی صوابدید کے مطابق کوئی کمیٹی تشکیل دیں جس سے رابطے کا آغاز ہو اور اس کے بعد حکومت اور طالبان کا نقطۂ نظر سامنے آئے۔

اسی بارے میں