’آپ آثارِ قدیمہ میں ایک کِیل تک نہیں ٹھونک سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Amar Guriro
Image caption کھنڈرات کے اوپر اور اردگرد لکڑی اور سٹیل کی مدد سے ایک بڑا سٹیج تیار کیا جا رہا ہے

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ موئنجودڑو کے کھنڈرات میں یکم فروری کو سندھ فیسٹیول کی تقریب کے انعقاد سے یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیے جانے والی دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی باقیات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں اپنے آبائی صوبے سندھ کی ثقافت کے تحفظ کے لیے 15 روزہ مہم چلانے کا اعلان کیا تھا جس کا آغاز یکم فروری سے ہو رہا ہے۔

موئنجودڑو میں سندھ فیسٹیول کی تیاریاں: تصاویر

اس مہم کی افتتاحی تقریب کی تیاریاں موئنجودڑو میں زور شور سے جاری ہیں اور اس کے لیے 2600 قبل مسیح میں تعمیر ہونے والے شہر کے کھنڈرات کے اوپر اور اردگرد لکڑی اور سٹیل کی مدد سے ایک بڑا سٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ آثارِ قدیمہ کے سربراہ پروفیسر فرزند مسیح نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی سرگرمیاں ’اینٹیکوئٹی ایکٹ‘ کے تحت غیرقانونی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ آثارِ قدیمہ میں ایک کیل تک نہیں ٹھونک سکتے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس تقریب میں جس لیزر اور لائٹ شو کا انعقاد کیا جا رہا ہے اسے سے ان کھنڈرات کو تیزی سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Amar Guriro
Image caption موئنجودڑو کے کھنڈرات کراچی کے شمال میں 425 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں

پروفیسر فرزند کے مطابق انھیں بلاول بھٹو نے اس تقریب میں مدعو کیا تھا لیکن وہ ’اس قسم کے اقدامات کی منظوری نہیں دے سکتے۔‘

تعمیرات اور شہری منصوبہ بندی کے پروفیسر نعمان احمد کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ ہماری شاندار تاریخ سے کس لاپروائی سے سلوک کیا جا رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ہمیں آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے تکنیکی اور مالی مدد کی ضرورت ہے، ایسے اقدامات باعثِ شرمندگی ثابت ہوں گے۔‘

ادھر سندھ کے محکمۂ آثارِ قدیمہ کے سربراہ اور موئنجودڑو کے آثارِ قدیمہ کے نگران قاسم علی قاسم کا کہنا ہے کہ اس تقریب سے کھنڈرات کو کوئی نقصان پہنچنے کا خدشہ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ذاتی طور پر اس کام کی نگرانی کر رہا ہوں اور میرے خیال میں سٹیج کے ڈھانچے یا روشنیوں سے اس مقام کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘

موئنجودڑو کے کھنڈرات کراچی سے 425 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں جنھیں 1922 میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل نے دریافت کیا تھا۔ یہ شہر دریائے سندھ کی قدیم تہذیب کے بڑے شہروں میں سے ایک تھا۔

اسی بارے میں