بلوچوں کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف گامزن

Image caption پاکستان سرائیکی پارٹی ، نیشنل سرائیکی پارٹی اور سرائیکستان انقلابی پارٹی کے کارکنوں نے بھی مارچ کے شرکاء کا خیر مقدم کیا

لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے حوالے سے کوئٹہ سے اسلام آباد کی طرف چلنے والے لانگ مارچ کے شرکاء کا قافلہ چھہترویں دن ملتان پہنچے ہیں جہاں سے وہ لاہور روانہ ہونگے۔

ملتان کے مضافاتی علاقے شیر شاہ پہنچنے پر ان کا استقبال قوم پرست سرائیکی سیاسی جماعتوں کے علاوہ سماجی تنظیموں اور شہر کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بلوچ طالب علموں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ماما قدیر نے میڈیا کے نمائندوں کے مخلتف سوالوں کے جوابات بھی دیے ۔

اس موقع پر ماما قدیر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر میں یادداشت پیش کرنے کے لیے نکلے ہیں۔انھوں نے کہا کہ چین، امریکہ، برطانیہ، روس، ناروے اور دیگر کئی ممالک کے سفارت خانوں نے بھی ان سے بات کی ہے ۔ ماما قدیر کا کہنا تھا کہ ان سفارت خانوں نے مارچ کے شرکاء کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے مطالبات اپنی ملکوں کے سربراہوں کو ارسال کریں گے۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے سپریم کورٹ میں چلنے والے کیس کے حوالے سے ماما قدیر کا کہنا تھا کہ 30 جنوری کو اٹھترویں پیشی تھی۔ سابقہ چیف جسٹس نے اس کیس کے حوالے سے باتیں توبہت کیں مگر عملی طور پر کچھ بھی نہ کر سکے۔

لاپتہ افراد کی تعداد کے حوالے سے میڈیا میں پیش کیے جانے والے اعدادوشمار میں تضاد کے بارے میں ہونے والے ایک سوال کے جواب میں ماما قدیر نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اوران کی تنظیم روزانہ کی بنیاد پر یہ فہرست مرتب کر رہی ہے جو اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی یاداشت کے ساتھ جمع کرائی جائے گی۔

تحفظ پاکستان آرڈیننس کے حوالے سے ماما قدیر کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے یہ اقدام لاپتہ بلوچوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے ۔انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کااستعمال بلوچوں کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے بلوچستان میں جاری آپریشن کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور اجتماعی قبروں سے ملنے والی لاشوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستان سرائیکی پارٹی ، نیشنل سرائیکی پارٹی اور سرائیکستان انقلابی پارٹی کے کارکنوں نے بھی مارچ کے شرکاء کا خیر مقدم کیا۔

سرائیکستان انقلابی پارٹی کے صدر مظفر مگسی نے اس موقع پر کہا کہ یہ تاریخی لانگ مارچ ہے، اس سے ایک تاریخ مرتب ہونے جارہی ہے۔انھوں نے کہا کہ بلوچ صرف بلوچستان ہی میں نہیں سندھ اور پنجاب بھی کثرت سے آباد ہیں اگر بلوچوں کے خلاف جاری ظلم وجبر بندنہ کیا گیا تو اس کے نتائج بھیانک ہونگے۔

ماماقدیر بلوچ نے لانگ مارچ کومناسب جگہ نہ دینے کے حوالے سے میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا کی میں کیا تعریف کروں یہ آپ سب لوگوں کے سامنے ہے البتہ بین الاقوامی ادارے ہمارے ساتھ ہیں اور ہمیں بھرپور کوریج دے کر رہے ہیں۔

لانگ مارچ کے شرکاء جب آبادی کے پاس سے گزرتے ہیں تو اپنی آمد کا مقصد مختلف نعروں میں بیان کرتے ہیں۔ لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے حوالے سے شروع ہونے والا یہ لانگ مارچ جمعے کو براستہ خانیوال لاہور روانہ ہوگا جہاں ایشین ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں شرکت کے بعد اپنی آئندہ منزل کے تعین کا فیصلہ کرے گا۔

اسی بارے میں