’میرے ساتھ بھی مشرف والا سلوک ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یاد رہے کہ چند روز قبل پرویز مشرف بغاوت کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے سامنے پیش ہونے گھر سے نکلے تھے لیکن طبیعت خراب ہونے پر فوجی ہسپتال پہنچ گئے تھے

بدعنوانی کے الزام میں فوجی تحقیقات کا سامنا کرنے والے ایک نائب صوبیدار نے دوران تفتیش دل کا دورہ پڑنے اور عدالتی حکم کے باوجود ہسپتال منتقل نہ کیے جانے پر اعلیٰ فوجی حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔

اپنے وکیل انعام الرحیم کے ذریعے دائر کی گئی اس درخواست میں سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا حوالہ دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ آئین شکنی کے الزامات کا سامنا کرنے والے پرویز مشرف کو عدالت کے بار بار طلب کرنے کے باوجود ہسپتال میں رکھاگیا ہے اور بدعنوانی کے مقدمے کے ملزم فوجی کو دل کا دورہ پڑنے اور ماتحت عدالت کے حکم کے باوجود طبی سہولیات مہیا نہیں کی جا رہی ہیں۔

نائب صوبیدار محمد الیاس کا مؤقف ہے کہ یہ تضاد ملک میں غریب اور امیر کےلیے دو الگ الگ قوانین کی مثال ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل پرویز مشرف بغاوت کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے سامنے پیش ہونے گھر سے نکلے تھے لیکن طبیعت خراب ہونے پر فوجی ہسپتال پہنچ گئے تھے۔

نائب صوبیدار محمد الیاس کو ماتحت عدالت کے حکم پر فوجی تفتیش کاروں نے ہسپتال کے بجائے نامعلوم مقام پر واقع تفتیشی مرکز منتقل کر دیا ہے۔

نائب صوبیدار الیاس نے جمعے کے روز سپریم کورٹ میں اپنی ابتدائی میڈیکل رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں فوری طور پر ہسپتال داخل کیا جائے۔

اس کے ساتھ انہوں نے ماتحت عدالت کا ایک حکم بھی جمع کروایا ہے جس میں انہیں فوری طور پر ایمبولینس اور طبی عملہ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

محمد الیاس کا کہنا ہے کہ اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے پر راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

پاکستانی فوج کی میڈیکل کور سے تعلق رکھنے والے نائب صوبیدار محمد الیاس کو شدت پسندوں سے رابطوں کے شبہ میں چار برس قبل کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا تھا تاہم دو برس کے بعد ان پر بد عنوانی کا مقدمہ قائم کر دیا گیا۔

یہ مقدمہ ابھی تک فوجی عدالت کے سامنے زیر التوا ہے۔

اسی بارے میں